منی پور میں لوگوں کو یرغمال بنائے جانے کے معاملے پر کانگریس نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو سخت نشانے پر لیا ہے۔ کانگریس کی منی پور یونٹ کے صدر اوکرام ابوبی سنگھ نے ریاست میں مسلح گروہوں کی کارروائیوں اور شہریوں کو یرغمال بنائے جانے کے معاملے پر حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ ایسے حالات میں حکومت نے فوری طور پر کیا قدم اٹھایا۔اوکرام ابوبی سنگھ نے بدھ کو آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی 62ویں برسی کے موقع پر منعقد ایک پروگرام کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منی پور جیسے چھوٹے صوبے میں قانون کی حکمرانی کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے اغوا اور یرغمال بنائے جانے کے بعد مرکز اور ریاستی حکومتوں کو فوری کارروائی کرنی چاہیے تھی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام یرغمال افراد کو جلد از جلد آزاد کرایا جائے۔ سابق وزیر اعلیٰ اوکرام ابوبی سنگھ نے سوال اٹھایا کہ آخر مرکز اور ریاستی حکومتیں خاموش تماشائی کیوں بنی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں حکومتوں کا رویہ سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔اطلاعات کے مطابق تیرہ مئی کو منی پور کے کانگپوکپی اور سیناپتی ضلعوں میں چرچ سے وابستہ تین افراد کی گھات لگا کر ہلاکت کے چند گھنٹوں بعد مسلح گروہوں نے 38 سے زیادہ افراد کو اغوا کر کے یرغمال بنا لیا تھا۔ بعد میں 31 افراد کو آزاد کرا لیا گیا، جن میں 12 ناگا خواتین اور 16 کوکی برادری کے افراد شامل ہیں۔تاہم اب بھی 6 ناگا مرد لاپتہ ہیں اور ان کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ دوسری جانب کوکی برادری کی اہم تنظیم کوکی انپی منی پور نے دعویٰ کیا ہے کہ برادری کے چودہ افراد اب بھی ناگا گروہوں کی قید میں ہیں۔منی پور پولیس کے سربراہ راجیو سنگھ نے پیر کو کہا تھا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کارروائی جاری ہے۔ قابل ذکر ہے کہ منی پور گزشتہ تین برس سے تشدد، کشیدگی اور بدامنی سے دوچار ہے۔ کرفیو، انٹرنیٹ پابندیوں اور بڑی تعداد میں سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے باوجود ریاست میں حالات پوری طرح معمول پر نہیں آ سکے ہیں اور کشیدگی برقرار ہے۔