تین زبانوں کی لازمی تعلیم سے متعلق عرضی پر سپریم کورٹ کا مرکز اور سی بی ایس ای سے جواب طلب

Wait 5 sec.

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کے روز مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) کے ترمیم شدہ تین زبانوں کے ضابطے کی قانونی حیثیت سے متعلق دائر عرضی پر مرکز، سی بی ایس ای اور قومی تعلیمی تحقیق و تربیت کونسل (این سی ای آر ٹی) سے جواب طلب کر لیا۔ عدالت عظمیٰ نے اس معاملے کی سماعت جولائی کے دوسرے ہفتے میں مقرر کرتے ہوئے فی الحال اس ضابطے کے نفاذ پر کسی بھی قسم کی عبوری روک لگانے سے انکار کر دیا۔یہ معاملہ سی بی ایس ای کے 15 مئی کے سرکلر سے متعلق ہے، جس کے تحت موجودہ تعلیمی سیشن سے نویں جماعت کے طلبہ کے لیے کم از کم دو ہندوستانی زبانوں سمیت تین زبانوں کی تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس ضابطے کو قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور قومی نصابی خاکہ برائے اسکولی تعلیم 2023 کے مطابق نافذ کیا جا رہا ہے۔ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے عرضی پر نوٹس جاری کرتے ہوئے مرکزی حکومت، سی بی ایس ای اور این سی ای آر ٹی سے تفصیلی جواب داخل کرنے کو کہا۔سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل مکل روہتگی نے عدالت کو بتایا کہ یکم جولائی سے تین زبانوں کی لازمی تعلیم کا ضابطہ نافذ ہونے جا رہا ہے لیکن زمینی سطح پر اس کے لیے ضروری تیاریوں کا فقدان ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ کئی مقامات پر درسی کتابیں بھی دستیاب نہیں ہیں، جس کی وجہ سے طلبہ اور اسکولوں کو عملی دشواریوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔اس معاملے سے متعلق ایک دوسری عرضی میں سینئر وکیل کپل سبل نے مؤقف اختیار کیا کہ زبان انتخاب کا معاملہ ہے اور اسے طلبہ پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کے وفاقی نظام سے بھی تعلقات جڑے ہوئے ہیں اور اس کے آئینی پہلوؤں پر غور ضروری ہے۔تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر وہ وفاقی نظام کے سوالات کا جائزہ نہیں لے رہی، بلکہ بنیادی توجہ نفاذ سے متعلق عملی معاملات، جیسے اساتذہ کی دستیابی اور تعلیمی مواد کی فراہمی پر مرکوز ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہوئی ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی نے فوری عبوری راحت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تفصیلی سماعت بعد میں کی جا سکتی ہے، کیونکہ پالیسی کا نفاذ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے تابع رہے گا۔سی بی ایس ای نے اپنے سرکلر میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ طلبہ تیسری زبان کے طور پر غیر ملکی زبان کا انتخاب کر سکتے ہیں، بشرطیکہ دیگر دو زبانیں ہندوستانی ہوں۔ بورڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ جب تک نئی درسی کتابیں دستیاب نہیں ہوتیں، تب تک نویں جماعت کے طلبہ کے لیے چھٹی جماعت کی زبان کی کتابوں سے عارضی طور پر مدد لی جائے گی۔ ساتھ ہی دسویں جماعت میں تیسری زبان کے لیے کوئی بورڈ امتحان نہیں ہوگا اور اس کا جائزہ داخلی سطح پر کیا جائے گا۔