واشنگٹن / تہران : امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے اور تمام محاذوں پر لڑائی روکنے کے لیے امن معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔واشنگٹن ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امکان ہے کہ مسودے کا اعلان آئندہ 24 گھنٹوں میں سامنے آجائے گا۔امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں نے مسودے کی منظوری دے دی ہے، جے ڈی وینس، باقرقالیباف سمیت دیگر نے مسودے کی منظوری دی۔رپورٹ کے مطابق ابتدائی مسودے پر ہفتے کے روز اتفاق کیا گیا، اطلاعات ہیں کہ مذاکرات میں شامل اعلیٰ سطحی شخصیات نے مجوزہ معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ کامیاب ہوجاتا ہے تو گزشتہ چھ ہفتوں سے جاری نازک جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہوسکتی ہے، تاہم معاہدے کی اہم تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔اطلاعات کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز کی بحالی جیسے اہم معاملات اب بھی فریقین کے درمیان زیر غور ہیں۔جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی، جس سے عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہوئی۔ذرائع کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی ایران میں اہم ملاقاتیں کیں تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کم کیے جاسکیں۔اس دوران قطر کا ایک وفد بھی تہران پہنچا، جسے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی سفارتی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی ایک اہم تجارتی گزرگاہ ہے، جہاں سے عالمی تیل کی ترسیل کا تقریباً 20فیصد حصہ گزرتا ہے اور اس کی بندش نے عالمی توانائی منڈی کو شدید متاثر کیا ہے۔