ابراہیمی معاہدہ کیا ہے؟

Wait 5 sec.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ طے پانے کے بعد مشرقِ وسطیٰ اور دیگر مسلم ممالک ابراہیمی معاہدہ (ابراہم اکارڈز) پر دستخط کریں۔ابراہیمی معاہدے کے بارے میں جاننے کی چند اہم باتیں:ابراہیمی معاہدہ اسرائیل اور اس کے بعض عرب ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے لیے کیے گئے معاہدوں کا ایک سلسلہ ہے۔ 2020 میں کیے گئے ایسے سفارتی معاہدے جن کے تحت کچھ عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے (نارملائزیشن) پر اتفاق کیا۔ان معاہدوں کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی، معاشی اور سیکیورٹی تعاون کو بڑھانا تھا، اور کئی دہائیوں سے جاری کچھ عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان محدود یا منقطع تعلقات کو بحال کرنا تھا۔یہ معاہدے امریکا کی ثالثی سے ہوئے، اس کے اہم نکات یہ ہیں: سفارتی تعلقات کا قیام، سفارت خانے اور سفارتی عملے کا تبادلہ، تجارت اور سیاحت میں اضافہ، دفاعی اور انٹیلیجنس تعاون۔متحدہ عرب امارات اور بحرین نے 2020 میں ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران ان معاہدوں پر دستخط کیے، اور طویل عرصے سے قائم مؤقف کو توڑتے ہوئے ایک چوتھائی صدی میں اسرائیل کو تسلیم کرنے والے پہلے عرب ممالک بن گئے۔اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے سعودی عرب کا دو ٹوک مؤقفٹرمپ نے اس وقت ان معاہدوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تاریخ کا دھارا بدل دیں گے اور ایک نئے مشرقِ وسطیٰ کے آغاز کی علامت ہیں۔ مراکش اور سوڈان نے بھی جلد ہی اسی راستے پر عمل کیا اور قازقستان گزشتہ سال ان معاہدوں میں شامل ہوا، اگرچہ اس کے اسرائیل کے ساتھ پہلے سے دیرینہ سفارتی تعلقات موجود تھے۔ ٹرمپ کے داماد، جیرڈ کشنر نے ان معاہدوں کو طے کرانے میں مدد کی تھی۔ٹرمپ اب ابراہیمی معاہدے کا ذکر کیوں کر رہے ہیں؟ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ انھوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور بحرین کے رہنماؤں کے ساتھ گفتگو کے دوران ان معاہدوں پر بات کی۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ کرانے کے لیے امریکا کی تمام کوششوں کے بعد ان معاہدوں میں شمولیت لازمی ہونی چاہیے۔بعد ازاں ایک سعودی ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ ان معاہدوں کے بارے میں ملک کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا، اور ریاض صرف اسی صورت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے گا جب فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف ایک ناقابلِ واپسی راستہ موجود ہو۔ایک دوسرے ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ ٹرمپ نے ہفتے کے روز علاقائی رہنماؤں سے گفتگو کے دوران سرسری انداز میں ان معاہدوں کا ذکر کیا اور ان کے ممالک کو اس میں شامل ہونے کی ترغیب دی، لیکن اسے ایران معاہدے کی شرط کے طور پر پیش نہیں کیا۔اور ایک اور علاقائی ذریعے نے کہا کہ بعض ممالک ان معاہدوں میں شامل ہونے پر آمادہ ہو سکتے ہیں، لیکن غزہ، مغربی کنارے اور لبنان میں اسرائیلی اقدامات سے متعلق شرائط کے ساتھ۔