جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر ریاست میں راجیہ سبھا انتخابات سے قبل بی جے پی کے ذریعہ ممکنہ ہارس ٹریڈنگ کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ اگرچہ اسمبلی میں بی جے پی کے پاس صرف 21 ایم ایل اے ہیں لیکن اپوزیشن لیڈر نے عوامی طور پر اعلان کیا ہے کہ پارٹی آئندہ راجیہ سبھا انتخابات میں اپنا امیدوار کھڑا کرے گی۔ الیکشن کمیشن نے 22 مئی کو 10 ریاستوں میں راجیہ سبھا کی 24 سیٹوں کے لیے انتخابات کا اعلان کیا تھا۔ اس میں جھارکھنڈ کی 2 سیٹیں بھی شامل ہیں، جن کے لیے 18 جون کو ووٹنگ ہوگی۔جھارکھنڈ حکومت نے اسملبی میں پیش کیا 1.58 لاکھ کروڑ کا بجٹراجیہ سبھا کی 2 نشستوں پر ہونے والے انتخابات سے قبل جھارکھنڈ میں سیاسی وبال مچ گیا ہے۔ جے ایم ایم نے اس الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ (ممبران پارلیمنٹ-ممبران اسمبلی کی خرید و فروخت) کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھا ہے۔ خط میں جے ایم ایم کے جنرل سکریٹری سپریو بھٹاچاریہ نے کہا کہ اسمبلی میں بی جے پی کے پاس صرف 21 ممبران اسمبلی ہیں باوجود اس کے اپوزیشن لیڈر بابو لال مرانڈی اور ریاستی صدر آدتیہ ساہو نے اعلان کیا ہے کہ پارٹی آئندہ راجیہ سبھا الیکشن میں ایک امیدوار اتارے گی۔ بھٹا چاریہ نے کہا کہ حکمراں اتحاد کو موجودہ وقت میں 81 میں سے 56 ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل ہے اور یہ راجیہ سبھا کے 2 امیدواروں کی جیت کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں ممبران اسمبلی کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جا سکتی ہیں۔بھٹاچاریہ نے مزید کہا کہ بی جے پی کے پاس اپنے دم پر جیت حاصل کرنے کے لیے ضروری ممبران اسمبلی کی تعداد نہیں ہے، اس لئے یہ ممکن ہے کہ ممبران اسمبلی کی خرید وفروخت کی جاسکتی ہے تا کہ اس کے حق میں ووٹ حاصل کئے جاسکیں۔ بتا دیں کہ جھارکھنڈ کی ان 2 سیٹوں میں سے ایک سیٹ جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کے سینئر لیڈر شیبو سورین کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی جبکہ دوسری سیٹ پر موجودہ وقت میں بی جے پی لیڈر دیپک پرکاش کا قبضہ ہے۔ دیپک کی 6 سال کی میعاد 21 جون کو پوری ہورہی ہے۔प्रस्तावित 18 जून 2026 को झारखंड का द्विवार्षिक राज्य सभा चुनाव के संदर्भ मे..@JmmJharkhand pic.twitter.com/3HdE9pHtD7— Supriyo Bhattacharya (@Supriyo__JMM) May 25, 2026قابل ذکر ہے کہ اس وقت 81 رکنی جھارکھنڈ اسمبلی میں کانگریس زیر قیادت انڈیا اتحاد کے پاس 56 رکن (جے ایم ایم- 34، کانگریس- 16، آر جے ڈی-4، سی پی ایم-2) ہیں۔ اپوزیشن بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے کے پاس 24 رکن (بی جے پی-21، ایل جے پی-1، جے ڈی یو-1 اور آل انڈیا اسٹوڈینٹس یونین-1) ہیں۔ فارمولے کے تحت راجیہ سبھا کی ایک سیٹ جیتنے کے لیے امیدوار کو 28 ترجیحی ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ باوجود اس کے بی جے پی کے ریاستی سکریٹری جنرل امر کمار باؤری نے دعویٰ کیا ہے کہ 81 ووٹوں سے جیت کے لئے ہمیں 28 ووٹ حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور ہم اسے یقینی طور سے حاصل کریں گے۔