نئی دہلی: ہندوستان اور امریکہ کے درمیان مجوزہ دو طرفہ تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے امریکی وفد یکم جون سے چار جون 2026 تک نئی دہلی کا دورہ کرے گا۔ وزارت تجارت و صنعت کی جانب سے بدھ کو جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی ٹیم اپنے مرکزی مذاکرات کار کی قیادت میں ہندوستان آئے گی، جہاں دونوں ممالک کے درمیان عبوری تجارتی انتظامات کو حتمی شکل دینے کے ساتھ ساتھ وسیع تجارتی معاہدے سے متعلق کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔وزارت کے مطابق مذاکرات میں بازار تک رسائی، غیر ٹیرف اقدامات، کسٹم نظام، تجارتی سہولت کاری، سرمایہ کاری کے فروغ اور اقتصادی سلامتی سے متعلق ہم آہنگی جیسے اہم شعبے شامل ہوں گے۔ دونوں ممالک ان معاملات پر پیش رفت کے ذریعے مستقبل میں جامع دو طرفہ تجارتی شراکت داری کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہندوستان اور امریکہ نے 7 فروری 2026 کو ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے باہمی فائدے پر مبنی تجارتی تعاون کے لیے ایک عبوری معاہدے کے خاکے پر اتفاق کیا تھا۔ اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان مجوزہ وسیع تجارتی معاہدے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا گیا تھا۔ اس کے تحت دونوں فریقوں نے مسلسل رابطے اور مذاکرات کے ذریعے تجارتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔اسی سلسلے میں ہندوستانی وفد نے 20 سے 23 اپریل 2026 کے درمیان امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کا دورہ بھی کیا تھا، جہاں امریکی حکام کے ساتھ براہ راست ملاقاتوں میں مجوزہ تجارتی معاہدے کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کی گئی۔حال ہی میں ہندوستان کے دورے پر آئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اس ممکنہ تجارتی معاہدے کو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک ایک ایسے معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں جو طویل مدتی، متوازن اور باہمی مفادات کے مطابق ہوگا۔مارکو روبیو نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کی شراکت داری مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتصادی حکمت عملی کسی ایک ملک کو نشانہ بنانے کے بجائے عالمی تجارتی ڈھانچے میں اصلاحات پر مرکوز ہے۔امریکی وفد کے آئندہ دورے کو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں اقتصادی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔