نئی دہلی: قومی خواتین کمیشن نے مسلم خواتین کے حقوق سے متعلق ایک تفصیلی سفارشاتی رپورٹ مرکزی حکومت کو پیش کی ہے۔ ’ہندوستان میں مسلم خواتین کے حقوق‘ کے عنوان سے تیار کی گئی اس رپورٹ کو وزارت داخلہ، وزارت خواتین و اطفال ترقی اور وزارت اقلیتی امور کو بھیجا گیا ہے۔ رپورٹ میں مسلم خواتین سے جڑے قانونی، سماجی اور خاندانی معاملات کے مختلف پہلوؤں پر سفارشات دی گئی ہیں۔اس رپورٹ کی تیاری سے قبل یکم اگست 2025 کو نئی دہلی میں ایک قومی سطح کی گول میز نشست منعقد کی گئی تھی۔ اس نشست میں وزارت اقلیتی امور کے نمائندوں، سرکاری افسران، قانونی ماہرین، ماہرین تعلیم، خواتین کے حقوق کے شعبے سے وابستہ افراد، مذہبی اہل علم، سماجی کارکنان اور مختلف شہری طبقات کے نمائندے شریک ہوئے تھے۔نشست کے دوران مسلم خواتین سے متعلق موجودہ قوانین، ان کے نفاذ، قانونی عمل میں موجود مسائل اور بہتری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ آئینی اور قانونی نظام خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے، تاہم کئی شعبوں میں مزید بیداری، قانونی سہولتوں تک بہتر رسائی اور بعض معاملات میں وضاحت کی ضرورت محسوس کی گئی۔رپورٹ میں نکاح، طلاق، نان و نفقہ، بچوں کی سرپرستی اور جائیداد میں حصہ داری جیسے معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ وراثت، خواتین کے مالی حقوق، خاندانی تنازعات، وقف سے متعلق معاملات اور سماجی تحفظ سے جڑے موضوعات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔قومی خواتین کمیشن نے اپنی سفارشات میں مسلم پرسنل لا سے متعلق جامع قانونی خاکہ تیار کرنے، نکاح کے اندراج کے نظام کو مضبوط بنانے، کم عمری کی شادی سے متعلق قوانین کے نفاذ اور طلاق کے عمل کو مزید منظم اور واضح بنانے کی سفارش کی ہے۔ خواتین کے مالی حقوق، مہر، ازدواجی اثاثوں میں حق اور بچوں کی سرپرستی کے معاملات میں بچوں کے مفاد کو ترجیح دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔رپورٹ میں قانونی مدد، ہیلپ لائن خدمات، بیداری مہمات اور تنازعات کے حل کے مؤثر نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ بعض استحصالی سماجی طریقوں کے خلاف کارروائی، متاثرہ خواتین کی بازآبادکاری، شناختی معاونت اور روزگار سے متعلق سہولتوں کی سفارش بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔مسلم خواتین سے متعلق قانونی اور سماجی معاملات پر یہ سفارشات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ملک میں خواتین کے حقوق، مذہبی آزادی، خاندانی قوانین اور آئینی اصولوں کے درمیان توازن سے متعلق مباحث مختلف حلقوں میں زیر بحث رہتے ہیں۔ قومی خواتین کمیشن نے متعلقہ وزارتوں اور دیگر فریقوں سے سفارشات پر غور کرنے کی اپیل کی ہے۔