ریاض (24 مئی 2026): مناسک حج کا آغاز کل سے ہو رہا ہے تاہم دوران حج گرد آلود طوفان اور شدید گرمی کی پیشگوئی کی گئی ہے۔مناسک حج کا آغاز کل سے ہو رہا ہے اور عازمین کے قافلے آج مغرب کے بعد سے منیٰ میں پہنچنا شروع ہو جائیں گے جب کہ حج کا رکن اعظم وقوف عرفات منگل 26 مئی کو ہوگا۔دوسری جانب سعودی عرب میں محکمہ موسمیات نے حج کے مناسک کے دوران کئی علاقوں میں ریتیلی اور گرد آلود ہوائیں چلنے اور دن کے اوقات میں شدید گرمی کی پیشگوئی کی ہے۔عرب میڈیا کے مطابق موسمیاتی مرکز کا کہنا ہے کہ زمین پر ریت اورگرد آلود ہوائیں چلنے سے متاثر ہونے والے علاقوں میں نجران، ریاض، مشرقی صوبہ، حدودِ الشمالیہ کے کچھ حصے، الجوف اور تبوک ریجن شامل ہیں جب کہ پہاڑی علاقوں میں طوفان اور بارش کا امکان ہے۔موسمیات کی پیشگوئی کرنے والے مرکز نے بتایا ہے کہ مکہ، مدینہ اور مشاعر المقدسہ کو ملانے والی سڑکوں پر موسم میں خاص تبدیلی ہونے کا امکان کم ہے، البتہ دن کے وقت درجہ حرارت میں بہت زیادہ شدت ہوگی۔ان مقامات پر عازمینِ حج کی بہت بڑی تعداد کی نقل وحرکت پہلے ہی سے ہو رہی ہے اور مناسکِ حج کے انتہائی دن یعنی 25 مئی تک جاری رہے گی۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ دوران حج مکہ میں درجۂ حرات 47 جبکہ مدینہ میں 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے گا۔ جب کہ کھلے مقامات اور میدانوں میں ریت کے طوفان اٹھ سکتے ہیں۔موسمیات کے مرکز نے عازمینِ حج اور مسافروں پر زور دیا ہے کہ روانگی سے پہلے اپنی گاڑیوں کو موسم کے لحاظ سے تیار رکھیں اور ضروری اشیائے خور و نوش کے ساتھ نکلیں۔اس کے علاوہ عازمین رہنما حفاظتی اصولوں پر ہر حال میں عمل کرتے ہوئے زیادہ مقدار میں پانی اور مائعات کا استعمال کریں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے پائے۔رپورٹ کے مطابق کم از کم 1.6 ملین عازمین حج اس برس فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ میں جمع ہوں گے جو دنیا کے سالانہ مذہبی اجتماعات میں سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے۔