وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں پھیلنے والے ایبولا وائرس کو انتہائی شدید خطرہ قرار دیا ہے۔ اس کے تحت ہندوستان نے ایبولا سے نمٹنے کے لیے افریقہ کو فوری طبی سامان اور حفاظتی کٹس کی پہلی کھیپ روانہ کر دی ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’اتوار کو افریقہ کو فوری طبی سامان اور حفاظتی کٹس کی پہلی کھیپ روانہ کر دی گئی۔ ایبولا سے متعلق ابھرتی ہوئی عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں افریقہ کا تعاون کرنے کے لیے ہم پرعزم ہیں۔‘‘ dispatched the first tranche of urgent medical supplies and protective kits to @AfricaCDC today.Committed to support Africa in responding to the emerging Ebola public health emergency. @_AfricanUnion pic.twitter.com/2OHhSARXUY— Dr. S. Jaishankar (@DrSJaishankar) May 24, 2026عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا وائرس کو انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے تشخیص کی سطح کو ’ہائی‘ سے بڑھا کر ’ویری ہائی‘ (اعلیٰ ترین) کیٹیگری میں کر دیا ہے۔ حالانکہ تنظیم کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر اس کا خطرہ کم ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس وبا اور پڑوسی ملک یوگانڈا میں معاملات کی تصدیق کے بعد بین الاقوامی عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم غیبریسس نے جمعہ کو بتایا کہ اب تک ڈی آر سی میں 82 کیسز اور 7 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 750 مشتبہ کیسز اور 177 مشتبہ اموات بھی ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ہندوستانی حکومت نے اتوار کو اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ جو لوگ اس وقت کانگو، یوگانڈا اور جنوبی سوڈان میں رہ رہے ہیں یا وہاں کے سفر پر جا رہے ہیں، وہ وہاں کی مقامی صحت کی ایجنسیوں کی جانب سے جاری کی گئی ایڈوائزری پر سختی سے عمل کریں اور خصوصی احتیاط برتیں۔تمل ناڈو کے پبلک ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ (ڈی پی ایچ) نے تمام اضلاع کے ہیلتھ افسران کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ایبولا سے متاثرہ ممالک سے آنے والے مسافروں پر خاص نظر رکھی جا رہی ہے۔ ایئرپورٹس پر اسکریننگ اور چیکنگ بڑھا دی گئی ہے، خاص طور پر ان مسافروں کی جنہوں نے حال ہی میں متاثرہ ممالک کا سفر کیا ہو۔ ساتھ ہی پورے محکمہ صحت میں اضافی تیاریاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔کسی بھی مشتبہ کیس سے نمٹنے کے لیے بڑے سرکاری اسپتالوں میں آئسولیشن وارڈ اور ریپڈ ریسپانس ٹیموں کو تیار رکھا گیا ہے۔ میڈیکل کالجوں، ضلع ہیڈ کوارٹر اسپتالوں اور بنیادی صحت کے مراکز کو بھی ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ ہیلتھ کیئر ورکرز کو اس بیماری کے بارے میں آگاہ کریں، جس میں اس کی علامات، پھیلنے کے طریقے اور انفیکشن کنٹرول کے طریقے شامل ہیں۔ ڈاکٹروں، نرسوں اور فیلڈ اسٹاف کے لیے ٹریننگ پروگرام چلائے جا رہے ہیں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مشتبہ انفیکشن کی شناخت جلد ہو جائے اور ان کی رپورٹ فوری کی جا سکے۔