واشنگٹن(24 مئی 2026): وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کرنے والا 21 سالہ نصیرے بیسٹ سے متعلق سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ اور دفتر ‘وائٹ ہاؤس’ کے باہر قائم سیکریٹ سروس کی سیکیورٹی چوکی پر فائرنگ کرنے والے 21 سالہ مشتبہ مسلح شخص کو جوابی فائرنگ میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔جس کی شناخت نصیرے بیسٹ کے نام سے ہوئی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق حملے کے پیچھے محرکات تاحال مکمل واضح نہیں ہیں تاہم ابتدائی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ بندوق بردار ذہنی مریض تھا اور خود کو یسوع مسیح کا جدید دور کا اوتار مانتا تھا۔سیکریٹ سروس کے مطابق مشتبہ شخص شام تقریباً 6 بجے سیکیورٹی چیک پوائنٹ کے قریب پہنچا اور اپنے بیگ سے ہتھیار نکال کر وہاں تعینات افسران پر فائرنگ شروع کر دی۔صدر ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس پر فائرنگ، حملہ آور مارا گیااس دوران تقریباً 30 راؤنڈ فائر کیے گئے جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور فائرنگ کی زد میں آکر ایک راہگیر شدید زخمی ہو گیا۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص اس چیک پوائنٹ کے آس پاس اکثر آنے جانے کی وجہ سے افسران سے شناسا ہو چکا تھا۔سیکیورٹی اہلکاروں نے سڑک پر عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہوئے گن نکالنے پر جوابی فائرنگ کر کے نصیرے بیسٹ کو قابو کیا اور اسے زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی۔رپورٹ کے مطابق نصیرے بیسٹ اس سے قبل 9 دسمبر 2025 کو ایک ٹک ٹاک ویڈیو میں صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی دھمکی دے چکا تھا، جس میں اس نے کہا تھا کہ اگر وہ بٹلر (پنسلوانیا) کے قاتلانہ حملے کا حملہ آور ہوتا تو ٹرمپ اب تک مر چکے ہوتے۔اس سے قبل عدالت نے بیسٹ کے خلاف وائٹ ہاؤس کیمپس سے دور رہنے کا حکم بھی جاری کیا تھا جس کی اس نے خلاف ورزی کی۔ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے ‘ایکس’ پر پوسٹ کرتے ہوئے بتایا کہ ایف بی آئی جائے وقوعہ پر موجود ہے اور سیکریٹ سروس کے ساتھ مل کر معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ تمام تفصیلات سامنے آتے ہی عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں ہی موجود تھے، تاہم اس حوالے سے باضابطہ تصدیق ہونا باقی ہے۔رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کو اپنے بیٹے کی شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے بہاماس روانہ ہونا تھا مگر ایران سے ممکنہ امن معاہدے کے باعث انہوں نے واشنگٹن میں ہی قیام کو ترجیح دی۔یاد رہے کہ ٹھیک ایک ماہ قبل بھی وائٹ ہاؤس میں منعقدہ سالانہ صحافتی ڈنر کے دوران ایک مسلح شخص نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تھی جسے سیکیورٹی حکام نے ناکام بناتے ہوئے صدر ٹرمپ کو ہنگامی طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا تھا۔