’ترنمول کے 20 ایم پی اور 50 ایم ایل اے پارٹی بدلنے کو تیار‘، بی جے پی رکن پارلیمنٹ سومتر خان کا سنسنی خیز دعویٰ

Wait 5 sec.

مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں شکست کے بعد ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اب اپنے ہی اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کی ناراضگی کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک دن قبل ہی وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری کی میٹنگ میں باراسات سے رکن پارلیمنٹ کاکولی گھوش دستیدار اور ٹی ایم سی کے 6 اراکین اسمبلی پہنچے تھے۔ اب بی جے پی کے سینئر لیڈر اور بانکوڑا سے رکن پارلیمنٹ سومتر خان نے ایک سنسنی خیز دعویٰ کر سبھی کو حیران کر دیا ہے۔#WATCH | Bankura, West Bengal: BJP MP Saumitra Khan says, "If central leadership of BJP says it once, TMC will not be a party anymore. Everyone is ready to come (to BJP). 50 MLAs are unhappy with the party (TMC) and 20 MPs are ready to come..." He also says, "Abhishek Banerjee… pic.twitter.com/XrMZfFPfF5— ANI (@ANI) May 27, 2026سومتر خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ترنمول کانگریس کے تقریباً 50 اراکین اسمبلی اپنی پارٹی سے ناراض ہیں، اور 20 اراکین پارلیمنٹ بی جے پی میں شامل ہونے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اراکین پارلیمنٹ و اراکین اسمبلی بی جے پی کے رابطے میں ہیں اور اعلیٰ قیادت سے منظوری ملتے ہی پارٹی بدلنے کو راضی ہیں۔ سومتر خان نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ بی جے پی کی مرکزی قیادت اگر ایک بار کہہ دے تو ترنمول کانگریس نام کی کوئی پارٹی ہی نہیں بچے گی۔ ایسا اس لیے کیونکہ ہر کوئی بی جے پی میں شمولیت کو تیار بیٹھا ہے۔سومتر خان نے ترنمول لیڈر ابھشیک بنرجی پر بھی تلخ حملہ کیا۔ انھوں نے ابھشیک کو گنہگار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ گنہگاروں کو جیل جانا ہی پڑتا ہے۔ سومتر کا کہنا ہے کہ آج ان کے گھر کے سامنے بلڈوزر کھڑا ہے، انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ 2021 میں انھوں نے بی جے پی کارکنان کے گھر تڑوائے تھے۔ گنہگاروں کو فوراً سزا ملنی چاہیے، ان کو جہنم میں جانا چاہیے۔بہرحال، سومتر خان کے ذریعہ ترنمول کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ و اراکین اسمبلی سے متعلق کیے گئے دعویٰ کو ترنمول کانگریس نے خارج کر دیا ہے۔ ترنمول رکن پارلیمنٹ سوگت رائے کا کہنا ہے کہ ’’یہ پوری طرح سے غلط ہے۔ سومتر خان اور بی جے پی غلط باتیں پھیلا رہے ہیں۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہونے والا۔‘‘ حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں میں ترنمول کانگریس کے کئی اراکین پارلیمنٹ و اراکین اسمبلی نے کھل کر اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے۔