امریکی خفیہ ایجنسیکا سینئر ترین عہدیدار گرفتار،گھر سے 40 ملین ڈالرز کے سونے کے بسکٹ برآمد

Wait 5 sec.

واشنگٹن : امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن نےامریکی خفیہ ایجنسی کے سابق افسر ‘ڈیوڈ رش’ کو گرفتار کر کے گھر سے 303 سونے کے بسکٹ، 20 لاکھ ڈالرز کیش اور 35 انتہائی قیمتی اور لگژری گھڑیاں برآمد ہوئیں۔تفصیلات کے مطابق امریکی تاریخ کے ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل اور سیکیورٹی بریچ کا پردہ فاش ہوگیا، جہاں امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی کے سابق اعلیٰ مینیجر ‘ڈیوڈ رش’ کو ان کے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا ہے۔ملزم کے گھر سے کروڑوں ڈالرز مالیت کا سونا، کیش اور دیگر قیمتی اشیاء برآمد ہوئی ہیں۔امریکی ریاست ورجینیا میں ڈیوڈ رش کی رہائش گاہ پر مارے گئے چھاپے کے دوران ایف بی آئی حکام اس وقت دنگ رہ گئے جب وہاں سے منٹوں میں کروڑوں ڈالرز کا پوشیدہ خزانہ نکل آیا۔ایف بی آئی کے مطابق 40 ملین ڈالرز (تقریباً 11 ارب پاکستانی روپے) سے زائد مالیت کے 303 سونے کے بسکٹ، 20 لاکھ ڈالرز کیش اور 35 انتہائی قیمتی اور لگژری گھڑیاں برآمد ہوئیں.تحقیقات کے مطابق، ملزم ڈیوڈ رش سی آئی اے میں اپنے اعلیٰ عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دفتری اخراجات اور مختلف ٹاپ سیکریٹ ‘خفیہ آپریشنز’ کے بہانے ایجنسی سے کروڑوں ڈالرز کا سونا وصول کرتا رہا اور اسے اپنے ذاتی استعمال میں لاتا رہا۔اسکینڈل اس وقت سامنے آیا جب سی آئی اے حکام نے اس سے سرکاری سونے کا آفیشل ریکارڈ طلب کیا، جس پر ملزم کوئی بھی تسلی بخش جواب دینے میں بری طرح ناکام رہا۔تفتیش میں یہ ہولناک انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ ڈیوڈ رش نے سی آئی اے میں اتنا بڑا عہدہ اور ‘ٹاپ سیکریٹ سیکیورٹی کلیئرنس’ حاصل کرنے کے لیے برسوں تک امریکی حکومت اور ایجنسی سے جھوٹ بولا، اس نے اپنی تعلیمی ڈگریوں کے بارے میں جھوٹے دعوے کیے اور خود کو امریکی بحریہ (کا پائلٹ ظاہر کر کے ایجنسی میں نوکری حاصل کی تھی۔ایف بی آئی نے سرکاری فنڈز چوری کرنے، دھوکہ دہی اور آفیشل دستاویزات میں ہیرا پھیری کرنے کے الزامات کے تحت ملزم کو گرفتار کر کے باقاعدہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ امریکی سیکیورٹی حلقوں میں اس اسکینڈل کے بعد شدید ہلچل مچ گئی ہے۔