اونٹاریو : کینیڈا نے ڈیجیٹل نومیڈ ویزا کے لئے قوانین سخت کردیئے، نئے قانون کے تحت اب امیگریشن افسران کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ آپ کی تمام تر آمدنی کینیڈا سے باہر کے کسی ملک یا کمپنی سے ہو رہی ہے۔تفصیلات کے مطابق کینیڈا کی حکومت نے ملک میں داخل ہونے والے ‘ڈیجیٹل نومیڈز’ کے لیے ویزا اور انٹری قوانین کو اچانک انتہائی سخت کر دیا ہے۔کینیڈین امیگریشن رینفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ نے 26 مئی 2026 کو اپنی ویب سائٹ پر "عارضی رہائشی، ڈیجیٹل نومیڈز” کے عنوان سے نئی ہدایات جاری کی ہیں، جس کے بعد اب بغیر ورک پرمٹ کے کینیڈا میں داخلہ ماضی جتنا آسان نہیں رہے گا۔ماضی میں ڈیجیٹل نومیڈز کو کینیڈا میں بطور عام وزٹر داخل ہونے کے لیے کسی اضافی دستاویزات کی ضرورت نہیں ہوتی تھی اور وہ 6 ماہ تک وہاں رہ کر ریموٹ کام کر سکتے تھے۔ لیکن اب قوانین کو یکسر بدل دیا گیا ہے۔نئے قانون کے تحت اب امیگریشن افسران کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ آپ کی تمام تر آمدنی کینیڈا سے باہر کے کسی ملک یا کمپنی سے ہو رہی ہے۔کینیڈا میں داخلے کے وقت اب یہ دکھانا لازمی ہوگا کہ آپ کینیڈا سے باہر کی کسی کمپنی کے باقاعدہ ملازم ہیں یا آپ کے تمام کلائنٹس کینیڈا سے باہر کے ہیں جبکہ آپ کا کینیڈا کی کسی بھی کمپنی یا فنانشل سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔نئی گائیڈ لائنز کے مطابق ڈیجیٹل نومیڈز کو کینیڈا کے عام وزٹر ویزا کی تمام بنیادی شرائط پر بھی پورا اترنا ہوگا، انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کینیڈا میں اپنے قیام کے دوران اپنا خرچہ خود اٹھا سکتے ہیں، ان کا کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں ہے اور وہ ویزا کی مدت ختم ہونے پر کینیڈا سے لازمی واپس چلے جائیں گے۔اس کے علاوہ، اگر فیملی ساتھ جا رہی ہے تو ان کے خاندان کے ارکان کو علیحدہ سے اپنے عارضی ویزا کے لیے درخواست دینا ہوگی۔امیگریشن ماہرین کے مطابق، اس نئی پالیسی کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ڈیجیٹل نومیڈز کے روپ میں کوئی بھی شخص کینیڈا کی مقامی لیبر مارکیٹ میں داخل ہو کر وہاں کے شہریوں کی ملازمتوں پر اثر انداز نہ ہو۔