’’اتر پردیش میں رہنے والوں کے لیے بری خبر۔ بی جے پی حکومت نے آپ کی بجلی 10 فیصد مہنگی کر دی ہے۔‘‘ یہ تبصرہ آج کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر اُس خبر کے سامنے آنے کے بعد کیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ یوپی پاور کارپوریشن لمیٹڈ نے بجلی صارفین کو دھچکا دیتے ہوئے 10 فیصد اضافی فیس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یعنی اتر پردیش میں بجلی صارفین کو اب اپنے جون کے بلوں میں 10 فیصد اضافی فیس ادا کرنی ہوگی۔ یہ بل فیول سرچارج کے نام پر بڑھایا جائے گا۔ کارپوریشن نے یہ فیصلہ بجلی کی شدید تخفیف اور بجلی کی قلت کے درمیان لیا ہے، جس سے صارفین کو دوہرا دھچکا لگا ہے۔यूपी में रहने वालों के लिए बुरी खबर BJP सरकार ने आपकी बिजली 10% महंगी कर दी है।जनता पहले ही महंगाई से परेशान है, कमाने-खाने के लाले पड़े हैं- लेकिन BJP सरकार की वसूली थमने का नाम नहीं ले रही।BJP का एजेंडा साफ है- जनता से लूटो और मौज उड़ाओ। pic.twitter.com/cZunCT3yxo— Congress (@INCIndia) May 30, 2026کانگریس نے عوام کے اوپر پڑی مہنگائی کی اس مار کے لیے بی جے پی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ عوام پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہے۔ کمانے کھانے کے لالے پڑے ہیں، لیکن بی جے پی حکومت کی وصولی تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ کانگریس نے حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’بی جے پی کا ایجنڈا صاف ہے، عوام سے لوٹو اور موج اڑاؤ۔‘‘قابل ذکر ہے کہ بڑھے ہوئے بجلی بلوں سے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ زرعی اور تجارتی صارفین بھی متاثر ہوں گے۔ اضافہ کردہ سرچارج پہلے سے مہنگائی سے نبرد آزما لوگوں کی جیبوں پر مزید دباؤ ڈالے گا۔ اس معاملے میں عوامی احتجاج اب متوقع ہے۔ بہرحال، فیول سرچارج سے مراد یہ ہے کہ بجلی کمپنیاں صارفین سے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمت جیسے کوئلہ، گیس وغیرہ وصول کریں گی۔ یو پی پی سی ایل کے مطابق یہ سرچارج ضروری تھا۔ اسمارٹ میٹرز کی وجہ سے صارفین پہلے ہی بجلی سے جڑے مسائل کا شکار تھے، اب فیول سرچارج نے مزید پریشانیوں میں مبتلا کر دیا ہے۔