واشنگٹن (25 مئی 2026): ایران کے ساتھ معاہدہ اپنے آخری مراحل میں ہونے کا اعلان کرنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ایک بیان کے ردِ عمل میں یہ بھی کہا کہ ان کا یہ معاہدہ اوباما جیسا نہیں ہوگا۔اتوار کو ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اوباما دور کے ایران نیوکلیئر معاہدے پر تنقید کی اور دوبارہ اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔امریکی صدر نے لکھا کہ اگر میں ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتا ہوں تو وہ ایک اچھا اور مناسب معاہدہ ہوگا، اُس معاہدے جیسا نہیں جو اوباما نے کیا تھا، جس نے ایران کو بے تحاشا نقد رقم دی اور ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کا ایک واضح اور کھلا راستہ فراہم کیا۔مائیک پومپیو نے ایران معاہدے پر کیا کہا کہ وائٹ ہاؤس سینئر اہلکار آپے سے باہر ہو گئے؟ٹرمپ نے کہا ہمارا معاہدہ اس کے بالکل برعکس ہے، لیکن ابھی تک کسی نے اسے دیکھا نہیں اور نہ ہی کوئی جانتا ہے کہ وہ کیا ہے۔ ابھی تو اس پر مکمل مذاکرات بھی نہیں ہوئے۔ لہٰذا اُن ناکام لوگوں کی باتوں پر دھیان نہ دیں جو ایسی چیز پر تنقید کر رہے ہیں جس کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے۔انھوں نے کہا مجھ سے پہلے کے صدور کو یہ مسئلہ بہت پہلے حل کر لینا چاہیے تھا، ان کے برعکس میں خراب ڈیل نہیں کرتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’مذاکرات منظم اور تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، اور میں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ کسی معاہدے میں جلد بازی نہ کریں کیوں کہ وقت ہمارے حق میں ہے۔‘‘دریں اثنا، امریکی صدر ٹرمپ نے ایک اور ٹرتھ سوشل پوسٹ میں ایک جنگی طیارے کے نیچے لگے میزائل کی تصویر شئیر کی ہے، اور میزائل پر لکھا ہے ’’اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ۔‘‘