ملک بھر میں ایک بار پھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نے عوام کو زوردار دھچکا دیا ہے۔ پیر کو تیل کمپنیوں نے پٹرول کی قیمت میں 2.61 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 2.71 روپے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا۔ اس طرح گزشتہ 10 دنوں میں یہ چوتھی بار ہے جب ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی سے پریشان عام لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس اضافہ کے بعد راجدھانی دہلی میں اب پٹرول 102.12 روپے اور ڈیزل 95.20 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ اس سے قبل ہفتہ کو بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 87 پیسے سے 91 پیسے تک کا اضافہ کیا گیا تھا۔ایندھن کی قیمتوں میں پھر اضافہ، پٹرول 87 پیسے اور ڈیزل 91 پیسے ہوا مہنگاماہرین کے مطابق بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں تیزی، روپے کی کمزوری اور بڑھتی ہوئی درآمدی لاگت نے تیل کمپنیوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس کے علاوہ ریفائننگ مارجن میں تبدیلی بھی ایندھن کی قیمتوں کو متاثر کر رہی ہے۔ طویل عرصے تک قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے بعد اب سرکاری تیل کمپنیاں آہستہ آہستہ بڑھے ہوئے اخراجات کا بوجھ صارفین پر ڈال رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 10 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل تقریباً 5 روپے فی لیٹر تک مہنگے ہو چکے ہیں۔نئی قیمتوں کے مطابق دہلی میں پٹرول کی قیمت 2.61 روپے اضافے کے ساتھ 102.12 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ وہیں کولکاتا میں پٹرول کی قیمت 113.51 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی، جہاں 2.87 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ ممبئی میں پٹرول کی قیمت 111.21 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے جب کہ چنئی میں یہ 107.77 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے خاص طور پر متوسط طبقے اور روزانہ گاڑی استعمال کرنے والوں میں بڑی تشویش پیدا کر دی ہے۔پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں آج پھر اضافہ، دہلی میں پٹرول 99 اور ڈیزل 90 کے پاراسی طرح ڈیزل کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دہلی میں ڈیزل 2.71 اضافے کے بعد اب 95.20 روپئے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کولکاتا میں ڈیزل کی قیمت 99.82 روپے فی لیٹر اور ممبئی میں 97.83 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ ڈیزل کی اونچی قیمتوں کا نقل و حمل اور مال برداری پر زیادہ اثر پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے مارکیٹ میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔مانا جا رہا ہے کہ پٹرول-ڈیزل مہنگا ہونے کا اثر صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا۔ مال برداری مہنگی ہونے سے پھل، سبزی، دودھ اور روزمرہ کی دوسری تمام اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ڈیزل مہنگا ہونے سے کھیتی اور ٹرانسپورٹ سیکٹر پر اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ ایسے میں آنے والے دنوں میں مہنگائی بڑھنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ نے متوسط طبقے اور روزانہ سفر کرنے والے لوگوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔