خطے میں جنگ بھی اہل اسلام کو نہ روک سکی، 2025 سے زیادہ عازمین حج کی آمد

Wait 5 sec.

ریاض (24 مئی 2026): خطے میں جنگی صورتحال بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبہ عبادت کو کم نہ کر سکی 2025 سے زیادہ عازمین حج کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے۔ایران پر اسرائیل اور امریکی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال اور سخت کشیدہ ماحول بھی مسلمانوں کے جذبہ عشق کو کم نہ کر سکا اور دنیا بھر سے سعودی عرب پہنچنے والے عازمین حج کی تعداد گزشتہ سال 2025 سے تجاوز کر گئی۔عرب میڈیا کے مطابق سعودی حج پاسپورٹ فورس کے کمانڈر صالح المرابا نے ہفتے کے روز پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ بیرون ملک سے حج کے لیے سعودی عرب آنے والے عازمین کی تعداد 15 لاکھ 18 ہزار 153 ہوچکی ہے جب کہ اگلے دو دنوں میں اس کی تعداد میں مزید اضافے کی توقع ہے۔سعودی حج پاسپورٹ فورس کے کمانڈر کے مطابق رواں برس مملکت سے آنے والے سعودی عازمین حج کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ جنہیں شامل کرنے کے بعد یہ تعداد 17 لاکھ سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔اس کے برعکس گزشتہ سال 2025 میں بیرون ملک سے 15 لاکھ 6 ہزار 576 عازمین حج سعودی عرب آئے تھے اور سعودی عازمین کی شمولیت سے یہ تعداد 16 لاکھ 73 ہزار ہوگئی تھی۔واضح رہے کہ مطابق ایران جنگ اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملوں کے باعث خلیجی ملکوں امارات، قطر، بحرین کی فضائی کمپنیوں نے اپنی پروازیں بند کر دی تھیں جو کئی ہفتوں بعد بحال کی گئی اور فضائی راستے بھی کھلنا شروع ہوئے۔دوسری جانب سفری پیچیدگیوں کے باوجود عازمین حج نے بھی اپنے سفر حج کے ارادے میں کوئی کمزوری نہ آنے دی اور سعودی عرب پہنچنے کے لیے پورے جوش و جذبے سے روانہ ہوتے رہے۔حج کے دوران گرد آلود طوفان اور شدید گرمی کی پیشگوئی