اسرائیل کو جڑ سے اکھاڑ دیں گے، مجتبیٰ خامنہ ای کا حج کے موقع پر خصوصی پیغام

Wait 5 sec.

تہران (26 مئی 2026): مجتبیٰ خامنہ ای نے حج کے موقع پر خصوصی پیغام میں اسرائیل کو جڑ سے اکھاڑنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔الجزیرہ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے حج اور عید الاضحیٰ کے موقع پر ایک پیغام جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ’’یقیناً جڑ سے اکھاڑ دیا جانا چاہیے اور ایسا ہو کر رہے گا۔‘‘ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز کے مطابق انھوں نے اسرائیل کو ’’اس خطے کی ایک خطرناک اور مہلک سرطانی رسولی‘‘ قرار دیا۔ خامنہ ای نے کہا کہ ایران نے صہیونی حکومت کو اپنے تباہ کن حملوں کے تحت بے بس کر دیا، اس جنگ کے دوران جسے انھوں نے ’’دوسری مسلط کردہ جنگ‘‘ قرار دیا، اور اسے امریکا کے لیے ’’ایک سخت طمانچہ‘‘ کہا۔سپریم لیڈر نے کہا کہ اس سال کے حج سیزن نے امریکا اور اسرائیل سے اظہارِ لاتعلقی کی دعوت کو مزید اہمیت دے دی ہے اور ’’مرگ بر امریکا‘‘ اور ’’مرگ بر اسرائیل‘‘ امتِ مسلمہ کے غالب نعرے بن جائیں گے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے یہ بھی کہا کہ مستقبل امتِ مسلمہ اور نئی اسلامی تہذیب کا ہے۔کیا قطر نے واقعی معاہدہ طے کرانے کے لیے ایران کو 12 ارب ڈالر پیشکش کی؟انھوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’’ایک بات بالکل یقینی ہے کہ اب وقت کی سوئی کسی صورت پیچھے نہیں جائے گی، خطے کی غیور قومیں اور سرزمین اب امریکی فوجی اڈوں کے لیے ڈھال نہیں بنیں گی، مڈل ایسٹ میں امریکی شرارتوں کے لیے اب کوئی محفوظ پناہ گاہ باقی نہیں بچی، فوجی اڈوں کے خاتمے کے باعث امریکا خطے میں سابقہ حیثیت سے دور ہوتا جا رہا ہے۔‘‘رہبر معظم ایران نے کہا ’’صہیونی حکومت کا کینسر زدہ ٹیومر اپنی بدقسمت زندگی کے آخری مراحل کو پہنچ رہا ہے، خدا کے فضل سے شہید رہبر علی خامنہ ای کا مؤقف سچ ثابت ہو رہا ہے، انھوں نے 10 سال پہلے کہا تھا اسرائیل آئندہ 25 سال نہیں دیکھ پائے گا، مستقبل امت اسلامی اور نئی اسلامی تہذیب کا ہے۔‘‘انھوں نے مزید کہا ’’ہر ایک اپنی ذمہ داری کے مطابق اسلامی تہذیب کے مستقبل کو قریب لانے میں کردار ادا کرے، ایرانی عازمین حج دیگر مسلم بھائیوں کو تیسری مسلط کردہ جنگ کی فتح کی کہانی سنائیں، ایرانی زائرین دنیا بھر سے آئے مسلمانوں کو روشن مستقبل کی امید میں نمایاں کردار ادا کریں۔مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا امت اسلامیہ اور خطے کی اقوام کے درمیان بہت سی مشترکہ صلاحیتیں اور مفادات موجود ہیں، مسلم امہ کے مشترکہ مفادات خطے اور دنیا کے نئے نظام اور مستقبل کی نئی جیومیٹری کو تشکیل دیں گے۔