غازی آباد میں فائر سیفٹی پر سختی، 14 بلند و بالا رہائشی سوسائٹیوں کے خلاف عدالت میں مقدمات دائر

Wait 5 sec.

غازی آباد: شدید گرمی اور بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کے درمیان غازی آباد میں آتش زدگی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر محکمہ فائر سروس نے بلند و بالا عمارتوں اور رہائشی سوسائٹیوں میں فائر سیفٹی انتظامات کے خلاف سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ محکمہ نے فائر سیفٹی نظام کو معیارات کے مطابق فعال نہ رکھنے پر 14 رہائشی سوسائٹیوں کے خلاف عدالت میں مقدمات دائر کر دیے ہیں۔محکمہ فائر سروس کے مطابق گرمی کے موسم میں برقی آلات پر دباؤ بڑھنے سے شارٹ سرکٹ اور آگ لگنے کے واقعات کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے شہر کی بلند و بالا عمارتوں اور رہائشی کمپلیکسوں میں فائر سیفٹی انتظامات کی مسلسل جانچ کی جا رہی ہے تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کو آگ سے تحفظ کے بارے میں بیدار کرنے کے لیے مختلف عمارتوں میں باقاعدگی سے فرضی مشقیں بھی کرائی جا رہی ہیں۔ ان مشقوں کے دوران رہائشیوں کو ہنگامی حالات میں محفوظ انخلا، آگ بجھانے والے آلات کے استعمال اور عمارتوں میں نصب فائر سیفٹی نظام کو ہر وقت فعال رکھنے کے طریقوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔محکمہ نے ویشالی اور اندراپورم علاقوں میں واقع متعدد رہائشی سوسائٹیوں کے فائر سیفٹی نظام کا معائنہ کیا۔ جانچ کے دوران کئی عمارتوں میں آگ بجھانے کے آلات، خطرے کے الارم، پانی کی فراہمی کے خصوصی نظام اور دیگر حفاظتی آلات غیر فعال پائے گئے۔ اس کے بعد متعلقہ تعمیراتی اداروں، رہائشی فلاحی انجمنوں اور دیکھ بھال کرنے والی ٹیموں کو فوری طور پر تمام آلات درست کر کے فعال بنانے کی ہدایت دی گئی۔محکمہ کے مطابق اتر پردیش فائر سروس اور ایمرجنسی سروس ایکٹ 2022 کے تحت متعلقہ عمارتوں کو پہلے ہی نوٹس جاری کیے جا چکے تھے۔ تاہم جن عمارتوں کے مالکان اور رہائشی فلاحی انجمنوں نے مقررہ مدت کے باوجود ضروری اصلاحی اقدامات نہیں کیے، ان کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔عدالت میں جن 14 سوسائٹیوں کے خلاف مقدمات دائر کیے گئے ہیں، ان میں پناکِل ٹاور سوسائٹی، انتریکش گرین اپارٹمنٹ، آدتیہ میگا سٹی، ہِم گیری ٹاور، نیل گیری ٹاور، شپرا رویرا ٹاور، نیل کنٹھ ٹاور، ایچ آر سی پروفیشنل، مہالکشمی ٹاور، نیہو اسکاٹش گارڈن، رائل ٹاور، آمرپالی ولیج، سپرٹیک آئیکون سوسائٹی اور پنچ شیل بلڈ ٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔