ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور ممتا بنرجی کے بھتیجہ ابھشیک بنرجی پر سونارپور میں ہوئے حملہ کے بعد سخت سیاسی رد عمل کا سلسلہ جاری ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران لگاتار مغربی بنگال کی بی جے پی حکومت کے ساتھ ساتھ مرکز کی مودی حکومت کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی ابھشیک بنرجی پر حملہ معاملہ میں اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ’’سیاسی اختلافات کبھی بھی تشدد کا جواز نہیں بن سکتے ہیں۔‘‘Strongly condemn the shocking attack on MP Shri Abhishek Banerjee in Sonarpur, as he went to meet the families affected by post-poll violence in the state. The deliberate lack of adequate police protection for a prominent Opposition leader speaks volumes about the BJP’s…— Mallikarjun Kharge (@kharge) May 30, 2026ملکارجن کھڑگے نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری کردہ پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ریاست میں انتخاب کے بعد ہونے والے تشدد سے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کے لیے سونارپور جانے والے رکن پارلیمنٹ ابھشیک بنرجی پر ہونے والا حملہ حیرت انگیز ہے۔ میں اس حملے کی سخت مذمت کرتا ہوں۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’ایک اہم اپوزیشن لیڈر کو مناسب پولیس تحفظ فراہم نہ کیے جانے کی دانستہ کوتاہی بی جے پی کی انتقامی اور ہراسانی پر مبنی سیاست کو بے نقاب کرتی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’مغربی بنگال حکومت اور مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام اپوزیشن لیڈران کی سیکورٹی یقینی بنائے اور ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کرے۔ سیاسی اختلافات کبھی بھی کسی قسم کے تشدد کا جواز نہیں بن سکتے۔‘‘सांसद अभिषेक बनर्जी जी पर सोनारपुर में हुआ हमला बेहद निंदनीय है।एक सांसद पर हमला सिर्फ़ एक व्यक्ति पर हमला नहीं - यह उस जनता पर है जिसने उन्हें चुना, और उस लोकतंत्र पर है जो हम सबकी साझी विरासत है।यह BJP की बदले की राजनीति का घिनौना रूप है। राजनीतिक मतभेद कभी हिंसा का कारण…— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) May 30, 2026لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے بھی ابھشیک بنرجی پر ہوئے حملہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انھوں نے ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’رکن پارلیمنٹ ابھشیک بنرجی پر سونارپور میں ہوا حملہ بے حد قابل مذمت ہے۔ ایک رکن پارلیمنٹ پر حملہ صرف ایک شخص پر حملہ نہیں، یہ اس عوام پر حملہ ہے جس نے انھیں منتخب کیا، اور اس جمہوریت پر حملہ ہے جو ہم سب کی مشترکہ وراثت ہے۔‘‘ بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’یہ بی جے پی کی بدلے والی سیاست کی گھناؤنی شکل ہے۔ سیاسی نااتفاقی کبھی تشدد کا سبب نہیں بن سکتے۔ مرکزی اور مغربی بنگال حکومت، دونوں ہی قصورواروں پر فوری کارروائی کرے اور یہ یقینی بنائے کہ کوئی بھی عوامی نمائندہ، چاہے وہ کسی بھی پارٹی کا ہو، اپنی سیکورٹی کو لے کر فکر مند نہ رہے۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں راہل گاندھی متاثرہ ترنمول رکن پارلیمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’ابھشیک جی، میری ہمدردیاں آپ کے اور آپ کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ آپ جلد صحت یاب ہوں۔‘‘