کولکاتہ میں 3000 غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی، کسی بھی وقت مسماری کا امکان

Wait 5 sec.

کولکاتہ میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کے محکمہ عمارت نے شہر بھر میں تقریباً 3000 غیر قانونی تعمیرات کی شناخت کی ہے۔ اس بات کی جانکاری میونسپل کارپوریشن کے ایک افسر نے اتوار کو دی۔ افسر نے بتایا کہ ان ہزاروں رہائش گاہوں میں کی جانے والی تعمیرات اور توسیع پوری طرح سے غیر قانونی ہیں اور انہیں کسی بھی وقت مسمار کیا جا سکتا ہے۔ مشرقی کولکاتہ میں ای ایم بائی پاس کے آس پاس ایسے کئی غیر قانونی ڈھانچے بن گئے ہیں۔کولکاتہ میونسپل کارپوریشن کے مختلف علاقوں میں سے بیلیا گھاٹا، تانگرہ، تلجالا، بُرابازار، ٹوپسیہ، کسبہ، گارڈن ریچ، مٹیا برج، کوسی پور اور چت پور جیسے علاقوں میں سب سے زیادہ غیر قانونی تعمیرات ہوئی ہیں۔ کے ایم سی کے بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کچھ علاقوں کو ’ریڈ زون‘ قرار دیا گیا ہے۔ افسران کے مطابق ان ریڈ زونز کی درجہ بندی ایسے مقامات کے طور پر کی گئی ہے جہاں بڑی تعداد میں غیر قانونی تعمیرات موجود ہیں۔ تحقیقات کے دوران کے ایم سی کے افسران نے پایا کہ ان غیر قانونی تعمیرات کو مقامی پروموٹرز اور گروہوں کے ذریعے سہولت فراہم کی گئی تھی۔’آئی اے این ایس‘ پر کے ایم سی کے ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی پروموٹر یا تعمیراتی کمپنی میونسپل کارپوریشن سے ’جی پلس فور‘ عمارت کی تعمیر کی منظوری تو لے لیتی ہے، لیکن بعد میں ’جی پلس فائیو‘ عمارت تعمیر کر دیتی ہے۔ اس سے نہ صرف اضافی غیر قانونی منزل کے ذریعے منافع بڑھانے کا موقع ملتا ہے، بلکہ تعمیراتی مواد کی خریداری سے وابستہ اخراجات میں بھی بھاری اضافہ ہوتا ہے۔ اس منافع کو گروہوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ایک افسر نے کہا کہ کچھ ایسی عمارتیں جہاں غیر قانونی طور پر ایک اضافی منزل تعمیر کی گئی ہے، وہاں پوری عمارت کو مسمار نہیں کیا جائے گا، بلکہ صرف اسی اضافی منزل کی جانچ کی جائے گی۔ کولکاتہ میونسپل کارپوریشن کے بلڈنگ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ کولکاتہ کے جن علاقوں کو غیر قانونی تعمیرات کے لیے ریڈ زون قرار دیا گیا ہے، وہاں غیر قانونی تعمیرات کے لیے گروہوں کے ذریعے گاؤں یا کچی آبادیوں (جھگی-جھونپڑی) والے علاقوں کو منہدم کیے جانے کا امکان ہے۔