فرانس نے واضح پیغام دیا ہے کہ آبنائے ہرمز ٹول ٹیکس قابل قبول نہیں کیونکہ عالمی سمندری حدود کسی کی ذاتی ملکیت نہیں۔فرانس نے صہیونی فوج کی لبنان کے تاریخی قلعے بیوفورت پر قبضے کے بعد سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔فرانسیسی وزیرخارجہ جین نوئل نے کہا ہے کہ لبنانی سرزمین پر اسرائیلی قبضے اور فوجی کارروائیوں کو کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ٹول ٹیکس قابل قبول نہیں کیونکہ عالمی سمندری حدود کسی کی ذاتی ملکیت نہیں، جب تک ایران آبنائے ہرمز نہیں کھولتا، ایران پر فرانسیسی اوریورپی پابندیاں ختم نہیں کر سکتے۔جین نوئل کا کہنا تھا کہ ایران کی اجارہ داری کو قبول کر لیا تو یہ دنیا کی سمندری گزرگاہوں کیلئے خطرناک مثال بن جائےگی، عالمی تجارت مفلوج ہو کررہ جائے گی۔فرانسیسی وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا، یہ عالمی سلامتی کےلیےسنگین خطرہ ہے عالمی برادری ایران کےجوہری عزائم روکنےکےلیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے، خطےمیں کسی بھی جوہری ہتھیار کی موجودگی کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔