جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے بھتیجے اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پر ہوئے حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں تشدد اور حملوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ابھیشیک بنرجی پر حملے کو لیکر راہل گاندھی برہمجھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’مغربی بنگال میں رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پر ہوا حملہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ جمہوریت میں نظریاتی اختلافات فطری ہیں، لیکن سیاسی اختلاف رائے کا جواب تشدد یا طاقت کے استعمال سے نہیں دیا جا سکتا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’سیاسی مخالفت کا سامنا دلیل، بات چیت اور رائے عامہ کے ذریعہ کیا جانا چاہیے، نہ کہ خوف اور ڈر کے ذریعہ۔ ایسے واقعات جمہوری اقدار کو کمزور کرتے ہیں اور ان کے لیے کسی بھی قسم کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔‘‘पश्चिम बंगाल में सांसद .@abhishekaitc जी पर हुआ हमला अत्यंत निंदनीय है।लोकतंत्र में वैचारिक मतभेद हो सकते हैं, लेकिन हिंसा और हमले के लिए कोई स्थान नहीं है। राजनीतिक विरोध का जवाब तर्क और जनमत से दिया जाना चाहिए, न कि डर और बल प्रयोग से।मैं इस घटना की कड़ी निंदा करता हूँ तथा…— Hemant Soren (@HemantSorenJMM) May 31, 2026ہیمنت سورین نے واقعہ میں شامل لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہ ’’جمہوریت کو تشدد نہیں بلکہ بات چیت، رواداری اور باہمی احترام مضبوط بناتے ہیں۔‘‘ سورین کے علاوہ جھارکھنڈ کے وزیر صحت اور کانگریس کے سینئر لیڈر عرفان انصاری کا بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے اس معاملے کو رکن پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں سنگین لاپرواہی قرار دیتے ہوئے سیاسی طور پر محرک قرار دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر ممتا بنرجی چاہیں تو حملے میں زخمی ابھیشیک بنرجی کا ان کی حکومت جھارکھنڈ کے اسپتال میں محفوظ طریقے سے علاج کرائے گی۔ابھیشیک بنرجی کے بعد رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی پر بھی ہوا حملہ، سر میں آئی چوٹقابل ذکر ہے کہ ابھیشیک بنرجی پر ہفتہ (30 مئی) کو اس وقت حملہ کیا گیا تھا، جب وہ سونارپور میں انتخاب کے بعد ہونے والے تشدد سے متاثرہ خاندانوں سے ملنے جا رہے تھے۔ راستے میں ان پر انڈے پھینکے گئے اور دھکا مکی کی گئی۔ اس معاملے میں پولیس نے 6 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق سونارپور تھانے کی ٹیم نے رات بھر علاقے میں تلاشی مہم چلائی۔ حملے سے متعلق ویڈیو فوٹیج کی بھی جانچ کی گئی۔ ابتدائی تحقیقات میں ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر 6 افراد کی شناخت کی گئی اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام گرفتار ملزمان مقامی باشندے ہیں اور واقعے کے وقت موقع پر موجود تھے۔