سیول : جنوبی کوریا صرف سیاحت ہی نہیں بلکہ اب خوبصورتی کا عالمی مرکز بھی بن گیا ہے، بیوٹی ٹریٹمنٹس نے ملک میں سیاحت کا نیا رجحان پیدا کردیا۔جنوبی کوریا میں کے پاپ ڈراموں اور فیشن کے بعد اب خوبصورتی اور اسکن کیئر ٹریٹمنٹس بھی غیرملکی سیاحوں کو بڑی تعداد میں اپنی جانب متوجہ کررہے ہیں۔خواتین کی لیزر تھراپی، فیشل فرمِنگ اور اینٹی ایجنگ ٹریٹمنٹس نے ملک بھر میں میڈیکل ٹورازم کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس تقریباً 20 لاکھ غیرملکی شہری طبی علاج اور بیوٹی ٹریٹمنٹس کے لیے جنوبی کوریا پہنچے جو 2024 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا تعداد ہے۔اس حوالے سے جنوبی کوریا کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں غیرملکی مریضوں کی تعداد میں عام سیاحوں کی نسبت زیادہ تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔دبئی میں مقیم میکسیکن کنسلٹنٹ ماریا زو جو گزشتہ 8 سال میں کئی مرتبہ جنوبی کوریا کا سفر کر چکی ہیں نے بتایا کہ اس بار ان کے سفر کا اہم حصہ اسکن کیئر کلینکس میں گزرا جہاں انہوں نے لیزر ٹریٹمنٹس اور جلد کو جوان رکھنے کے مختلف طریقے اپنائے۔انہوں نے بتایا کہ ہمیں اپنے چہرے کے علاج کے لیے یہاں آکر دلی اطمینان اور تسلی محسوس ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق اب غیرملکی سیاح صرف ناک یا پلکوں کی کاسمیٹک سرجری کے لیے نہیں آتے بلکہ زیادہ تر افراد بغیر آپریشن والے طریقوں جیسے ریڈ لائٹ تھراپی، بوٹوکس اور الٹراساؤنڈ “اسکن لفٹنگ” کو ترجیح دے رہے ہیں، جن کے ذریعے جھریاں کم اور جبڑے کی ساخت نمایاں کی جاتی ہے۔کوریا ہیلتھ انڈسٹری ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے عہدیدار ہونگ سیونگ ووک کے مطابق غیرملکی سیاح جنوبی کوریا میں روایتی سیاحت کے مقابلے میں طبی اور بیوٹی سروسز پر زیادہ خرچ کررہے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ حکومت اب اینٹی ایجنگ اور اسکن کیئر سروسز کو مزید فروغ دے کر میڈیکل ٹورازم کے اس رجحان کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔سوشل میڈیا پر بھی کوریا گلواپ “#KoreaGlowUp” جیسے ہیش ٹیگز مقبول ہو رہے ہیں، جہاں لوگ جنوبی کوریا میں کروائے گئے بیوٹی ٹریٹمنٹس کے تجربات شیئر کر رہے ہیں۔