ایبولا وائرس کی وبا : عالمی ادارہ صحت کا بڑا فیصلہ

Wait 5 sec.

کسینجنیوا / کنشاسا : مشرقی جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی نایاب قسم ’بنڈی بوجیو‘ کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے، اس وائرس کے خلاف ویکسین کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اب تک اس ایبولا وائرس کے ایک ہزار سے زائد مشتبہ کیسز سامنے آچکے ہیں، جن میں متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔تشویشناک بات یہ ہے کہ اس مخصوص قسم کے ایبولا وائرس سے بچاؤ کے لیے تاحال نہ کوئی منظور شدہ ویکسین موجود ہے اور نہ ہی اس کا کوئی مؤثر علاج ہے۔عالمی ادارہ برائے صحتِ عامہ’سیپی‘ (سی ای پی آئی) نے کانگو میں پھیلنے والے خطرناک ایبولا بنڈی بوجیو وائرس کے خلاف ویکسین کی تیاری تیز کرنے کے لیے موڈرنا اور دیگر اداروں کو تقریباً 6 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔رپورٹس کے مطابق مشرقی جمہوریہ کانگو میں ایبولا بنڈی بوجیو وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ اس وائرس کے خلاف تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں۔سیپی کے سربراہ رچرڈ ہیچیٹ نے روئٹرز سے گفتگو میں کہا کہ ابتدائی مراحل کی ویکسینز چند ماہ کے اندر کلینیکل ٹرائلز کے لیے تیار کی جاسکتی ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مشرقی کانگو کی غیر یقینی سیکیورٹی صورتحال ٹرائلز کے عمل کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔عالمی ادارہ صحت اور افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق کانگو میں اب تک ایبولا کے 282 تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جن میں 42 اموات شامل ہیں، جبکہ تقریباً 1100 مشتبہ کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں، یوگنڈا میں بھی 9 کیسز اور ایک ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔سیپی نے موڈرنا کی تجرباتی ویکسین کے پری کلینیکل اور ابتدائی کلینیکل ٹرائلز کے لیے 5 کروڑ ڈالر تک کی امداد مختص کی ہے۔ موڈرنا کے چیف ایگزیکٹو اسٹیفن بینسل کے مطابق کمپنی پہلے ہی ایبولا پر ابتدائی تجربات میں مثبت نتائج حاصل کر چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ویکسین کا مقصد مہلک وائرس سے تحفظ فراہم کرنا اور خوراک کے نظام کو آسان بنانا ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ویکسین ایک خوراک پر مشتمل ہوگی یا دو خوراکوں پر۔سیپی نے یونیورسٹی آف آکسفورڈ اور انڈیا کے سیرم انسٹی ٹیوٹ کی مشترکہ ویکسین کے لیے 86 لاکھ ڈالر جبکہ انٹرنیشنل ایڈز ویکسین انیشی ایٹو کے منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر 32 لاکھ ڈالر کی فنڈنگ کا اعلان بھی کیا ہے۔آکسفورڈ کی ویکسین ’’ChAdOx1 Bundibugyo‘‘ اسی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جو آکسفورڈ / آسٹرازینیکا کی کووڈ-19 ویکسین میں استعمال کی گئی تھی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین کی تیاری کے بعد سب سے بڑا چیلنج متاثرہ علاقوں تک بروقت رسائی اور ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔ یاد رہے کہ 2018 سے 2020 کے دوران کانگو میں ایبولا زائرے وبا پر قابو پانے کے لیے تقریباً 3 لاکھ ویکسین ڈوز استعمال کی گئی تھیں۔دوسری جانب عالمی ویکسین اتحاد ’’گاوی‘‘ نے ایبولا سے نمٹنے کے لیے مزید 5 کروڑ ڈالر امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ عالمی بینک کے پینڈیمک فنڈ نے 22 کروڑ ڈالر سے زائد گرانٹس دینے کا عندیہ دیا ہے۔