لدھیانہ واقع فیکٹری میں زہریلی گیس خارج ہونے کے بعد بھگدڑ، دم گھٹنے سے باپ بیٹے سمیت 3 افراد ہلاک، متعدد بے ہوش

Wait 5 sec.

لدھیانہ واقع آر کے روڈ میں پانا-چابی (ٹول) بنانے والی ایک فیکٹری میں اتوار کو دیر رات زہریلی گیس کا اخراج ہوا جس میں باپ بیٹے سمیت 3 ملازمین کی موت ہو گئی۔ گیس کے اخراج کے باعث فیکٹری کے احاطے میں بھگدڑ مچ گئی۔ اس دوران گیس کی زد میں آنے سے کئی دیگر مزدور بے ہوش ہو گئے جن میں 2 کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ اطلاع ملتے ہی موتی نگر تھانے کی پولیس سمیت مختلف ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور بچاؤ نیز ریسکیو کام شروع کیا۔گروگرام : پلاسٹک فیکٹری اور گوداموں میں خوفناک آتشزدگی، 6 سوسائٹیوں میں دھواں داخل ہونے کے سبب سانس لینا ہوا دشوارعینی شاہدین کے مطابق فیکٹری میں روزانہ کی طرح مینوفیکچرنگ جاری تھی۔ اسی دوران اچانک گیس پائپ لائن یا سلنڈر لیک ہونے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے زہریلی گیس پورے احاطے میں پھیل گئی۔ گیس کا اثر اتنا خطرناک تھا کہ وہاں کام کر رہے مزدوروں کو سنبھلنے یا باہر نکلنے کا موقع تک نہیں ملا۔ آنکھوں میں خارش اور سانس لینے میں دشواری کے سبب کئی مزدور موقع پر ہی نڈھال ہو کر گر گئے۔اس المناک حادثے میں جان گنوانے والے متوفیوں کی شناخت مانا اور ان کے بیٹے امت کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ پولیس تیسرے متوفی کی شناخت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ واقعہ کے وقت دونوں مشین کے نچلے حصے سے نکلنے والی مٹی کو ٹرالی میں لوڈ کر رہے تھے، تبھی وہ اچانک مہلک گیس سے براہ راست رابطے میں آ گئے۔ متوفی امت اپنے پیچھے ایک سال کی بیٹی، بیوی، دو بہنیں اور ایک چھوٹے بھائی کو روتا چھوڑ گیا ہے۔ گھر کے 2 اہم کمانے والے ممبران کی موت سے پورے خاندان پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔جالندھر واقع ’میٹرو مِلک فیکٹری‘ میں لگی آگ، امونیا گیس لیک ہونے سے افرا تفری، پھنسے 30 ملازمین کو نکالا گیا باہرحادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ محکموں کی ٹیمیں ایمبولینس کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ پولیس نے لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ حادثے کی وجہ گیس کا اخراج ہے حالانکہ  فیکٹری میں حفاظتی معیارات کو نظر انداز کیا گیا یا نہیں، اس کی گہرائی سے جانچ کی جارہی ہے۔ وہیں موتی نگر تھانے کے ایس ایچ او انسپکٹر بھوپندر سنگھ نے بتایا کہ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے اور جلد ہی مکمل تفصیلات جاری کی جائیں گی۔متوفی مان سنگھ کی بیٹی رینو نے بتایا کہ ان کے والد کو دیر رات فیکٹری میں کام کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب گیس کا اخراج ہوا تب فیکٹری مالک خود ہی تمام متاثرین کو اسپتال لے کر پہنچے تاہم گھر کے کسی فرد کو اطلاع نہیں دی گئی۔ وہیں صبح جب اس کے والد گھر واپس نہ آئے تو فیکٹری جا کر دیکھا۔ اس دوران پتا چلا کہ کچھ مزدور گیس کے اخراج کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے ہیں اور انہیں اسپتال لے جایا گیا۔ رینو نے بتایا کہ جب وہ اسپتال پہنچی تو اسے معلوم ہوا کہ اس کے والد مان سنگھ اور امت کی موت ہو چکی ہے۔ معاملے میں افسران کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید کارروائی کی جارہی ہے۔