واشنگٹن (3 جون 2026): ایسے وقت میں جب امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی کوششیں جاری ہیں امریکا نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں اور یہ پابندیاں چار ایرانی شہروں اور کرپٹو ایکسچینجز پر لگائی گئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق پابندیاں عائد کرتے ہوئے امریکی محکمہ خزانہ نے جواز پیش کیا ہے کہ نوبی ٹیکس ایران کے مرکزی بینک اور پاسدارانِ انقلاب کیلئے کروڑوں ڈالرکی مالی لین دین کا ذریعہ بن چکا تھا اور انٹرنیٹ بندش کے دوران بھی لاکھوں ڈالر کے لین دین جاری رکھے ہوئے تھا۔امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیرملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔ایران کے ساتھ اب کسی نہ کسی طریقے سے معاہدہ کرنے کا وقت آ گیا، ٹرمپ