سوشل میڈیا سے بہتر ہے بچے سگریٹ نوشی کریں، وزیراعظم ڈنمارک کے بیان پر بحث چھڑ گئی

Wait 5 sec.

ڈنمارک کی وزیراعظم کے سوشل میڈیا کے بجائے بچوں کے سیگریٹ نوشی کو ترجیح دینے کے بیان پر تنازع کھڑا ہو گیا۔ڈنمارک کی وزیر اعظم فریڈرکسن نے آن لائن بحث چھیڑ دی کہ وہ اپنے بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کے بجائے سگریٹ نوشی کرنے کو ترجیح دیں گی۔ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن کی بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال کو سگریٹ نوشی سے تشبیہ دینے کی ایک ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ایک شدید عالمی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سوشل میڈیا کے غیر نگرانی کے استعمال کے بجائے سگریٹ نوشی کرنے کو ترجیح دیں گی۔یہ ریمارکس اصل میں اس ماہ کے شروع میں مصنوعی ذہانت اور بچوں کی حفاظت سے متعلق ایک کانفرنس میں دیے گئے تھے، لیکن وہ اس ہفتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے جس پر شدید تنقید اور بھرپور حمایت کی گئی۔فریڈرکسن نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ "اگر آج میرے چھوٹے بچے ہوتے، تو میں انہیں سگریٹ نوشی کرنے دیتیں بجائے سوشل میڈیا پر اکیلے رہنے کے۔۔Denmark’s PM Mette Frederiksen:If I had small kids today, I would rather have them smoking than allowing them to stay on their own on social media.But I am acting prime minister, so I will not say that. pic.twitter.com/I3oSu0UDgk— Clash Report (@clashreport) May 31, 2026فریڈرکسن نے اشتعال انگیز تقابل کا یہ دلیل دے کر دفاع کیا کہ معاشرہ ڈیجیٹل دور کے منفرد خطرات کو پہچاننے میں ناکام ہو رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ساتھ کچھ غلط ہے ہم اب بھی پرانے خطرات کو دیکھتے ہیں، لیکن ایک نیا خطرہ ہے اور یہ بہت زیادہ موجود ہے۔وزیر اعظم طویل عرصے سے بڑی ٹیک کمپنیوں کے سخت ناقد رہے ہیں۔ ڈنمارک کی پارلیمنٹ سے پچھلے خطاب میں، انہوں نے متنبہ کیا کہ قانون ساز بچوں کی ڈیجیٹل زندگیوں کو ایسے پلیٹ فارمز کے ہاتھ میں چھوڑ کر بےلگام کر رہے ہیں جو ان کی فلاح و بہبود کو ترجیح نہیں دیتے اور "ڈیجیٹل قید سے کمیونٹی کی طرف” تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں۔