گرمی کا انوکھا توڑ : شہری نے بغیر اے سی گھر کو کیسے ٹھنڈا کیا؟

Wait 5 sec.

حالیہ دنوں شدید گرمی کی لہر نے لوگوں کو بے حال کردیا، جن علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرگیا ہے وہاں ائیر کنڈیشنر (اے سی) ہی واحد سہارا ہے۔کولنگ آلات کے استعمال سے نہ صرف بجلی کے بل میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اے سی میں خرابی اور مہنگی مرمت کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔تاہم بھارتی شہر بنگلورو کے ایک شہری نے شدید گرمی سے بچنے کے لیے بغیر اے سی گھر کو ٹھنڈا رکھنے کا قدرتی اور ماحول دوست اور انوکھا حل تلاش کر لیا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ستیہ پرکاش وراناشی نامیک شہری نے اپنے گھر کو اس انداز سے ڈیزائن کیا ہے کہ سخت گرمی کے باوجود گھر کا درجہ حرارت باہر کے مقابلے میں 2 سے 3 ڈگری کم رہتا ہے۔انہوں نے روایتی سیمنٹ کی دیواروں کے بجائے کھوکھلی مٹی کے بلاکس استعمال کیے، جو قدرتی انداز میں کمروں کا درجہ حرارت متوازن رکھتے ہیں۔اس کے ساتھ سلائیڈنگ دروازے اور حکمت عملی کے تحت بنائی گئی کھڑکیاں گرم ہوا کو باہر نکالنے اور ٹھنڈی ہوا کے گزرنے (وینٹی لیشن) کو ممکن بناتی ہیں۔گھر کے اطراف پھولوں اور پودوں پر مشتمل سرسبز باغیچہ بھی بنایا گیا ہے جو ماحول دوست ہونے کے ساتھ حسن میں اضافہ کرتا ہے۔وراناشی ہاؤس کی ایک اور نمایاں خصوصیت فرانسیسی طرز کی بڑی کھڑکیوں کا استعمال ہے، جو قدرتی روشنی اور مسلسل ہوا کی آمدورفت کو یقینی بناتی ہیں۔ستیہ پرکاش وراناشی کے مطابق ان کے قدرتی طور پر ٹھنڈے گھر کی ڈیزائننگ تین بنیادی اصولوں پر مبنی ہے، جن میں کراس وینٹی لیشن، ڈسپلیسمنٹ وینٹی لیشن اور جسمانی سطح پر ہوا کی روانی شامل ہیں۔انہوں نے گھر کے ماحول کو معتدل رکھنے کے لیے پانی کے استعمال پر بھی خصوصی توجہ دی۔ گھر میں مچھلیوں کا تالاب اور ایک کھلا کنواں موجود ہے، جو زیرِ زمین پانی کو ری چارج کرنے کے ساتھ ماحول کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتا ہے۔رپورٹ کے مطابق پھولوں سے بھرے باغیچے کے نیچے 15 ہزار لیٹر بارش کا پانی ذخیرہ کیا گیا ہے، جسے عملی استعمال میں لایا جاتا ہے۔گھر کے اندر داخل ہوتے ہی مٹیالے اور قدرتی ماحول کا احساس ہوتا ہے، جہاں ری سائیکل شدہ پائن لکڑی، گرینائٹ پتھر کی سیڑھیاں، ریڈ آکسائیڈ فرش اور لکڑی کا فرنیچر دیہی طرز کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔گھر میں مصنوعی کولنگ کے بجائے قدرتی چمنی کا نظام استعمال کیا گیا ہے، جبکہ اس ماحول دوست گھر کی سب سے جذباتی بات یہ ہے کہ اسے ستیہ پرکاش وراناشی نے اپنی اہلیہ اشالا اور بیٹیوں گوری اور سیری کے آرام اور سکون کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر کیا۔