معاہدہ قریب آ کر پھر دور ہو گیا، صدر ٹرمپ نے ایران کیلیے مزید سخت شرائط رکھ دیں

Wait 5 sec.

واشنگٹن (31 مئی 2026): امن معاہدہ قریب آ کر پھر دور گیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے لیے مزید سخت شرائط رکھ دیں۔ایران اور امریکا مذاکرات میں نیا ڈیڈ لاک آ گیا اور معاہدہ قریب آ کر پھر دور ہو گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امن فریم ورک کے لیے مزید سخت شرائط رکھ دی ہیں، جن کا مقصد جنگ بندی کو طویل کرنا اور جوہری خدشات ختم کرنا ہے۔امریکی صدر نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے لیے مجوزہ معاہدے کی کئی شرائط بدل ڈالی ہیں، جس سے فریقین کے درمیان حتمی معاہدہ تا حال ممکن نہیں ہو سکا ہے۔نیویارک ٹائمز کے مطابق معاہدے کی شرائط کو مزید سخت کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور نیا فریم ورک ایران کو دوبارہ غور کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شرائط میں ایران کے یورینیم ذخائر پر کنٹرول، آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے مکمل رسائی، اور ایران کے طویل مدتی جوہری پروگرام کے خاتمے کی شرائط شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق نئی ترامیم مذاکرات کو کئی دنوں تک طول دے سکتی ہیں۔ اس سے قبل معاہدے کی منظوری ٹرمپ کے دستخط کی منتظر تھی، لیکن وائٹ ہاؤس کی سچویشن روم میٹنگ کے بعد بھی انہوں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے ڈیل کے قریب ہیں مگر جلد بازی نہیں کریں گے، اچھی ڈیل نہ ہوئی تو دوبارہ فوجی آپریشن کریں گے، ڈیل پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔ایران ہر طریقے سے ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنے پر رضا مند ہو گیا، ٹرمپ کا فاکس نیوز پر بہو کو انٹرویو