شالیمار باغ میں صبح سویرے بلڈوزر کی گڑ گڑاہٹ، سڑک چوڑی کرنے کے نام پر توڑے گئے 150 گھر

Wait 5 sec.

قومی راجدھانی کے شمال مغربی ضلع کے شالیمار باغ علاقے میں اتوار کی صبح بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائی شروع ہوئی۔ سڑک چوڑی کرنے کے منصوبے کے تحت انتظامیہ نے تقریباً 150 گھروں کو مسمار کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ مہم کے لیے علاقے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ کسی بھی بدامنی سے نپٹنے کے لیے بڑی تعداد میں دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ایم سی ڈی کی دہلی میں فیض الٰہی مسجد کے قریب بلڈوزر کارروائی!معلومات کے مطابق انہدامی کارروائی اس سڑک کو چوڑا کرنے کے لیے کی جارہی ہے جو آوٹر رنگ روڈ کو آزاد پور منڈی سے جوڑتی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سڑک چوڑی ہونے سے سنجے گاندھی ٹرانسپورٹ نگر اور آزاد پور منڈی کے درمیان براہ راست اور بہتر رابطہ قائم ہوگا، جس سے ٹریفک بندوبست میں بہتری آئے گی اور ٹریفک جام کی شکایت میں کمی آئے گی۔مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ مکان مالکان کو پہلے ہی نوٹس جاری کئے جا چکے تھے۔ نوٹس میں 30 مئی تک مکانوں کو خالی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد اتوار کی صبح انہدامی کارروائیاں شروع کردی گئی۔ کچھ لوگوں نے انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پہلے ہی اپنے گھر خالی کر لیے تھے اور اپنا سامان ہٹا دیا تھا۔ تاہم اب بھی کئی گھروں میں لوگوں کا سامان موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔دہلی کے اوکھلا میں چلے گا یوپی حکومت کا بلڈوزر، تقریباً 300 گھر کیے گئے سیلانہدامی مہم شروع ہونے سے قبل ہفتے کی رات سے ہی علاقے میں سیکورٹی کی تعیناتی بڑھا دی گئی تھی۔ اتوار کی صبح تقریباً 4 بجے سے پولیس کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر موجود تھی۔ شمال مغربی ضلع کے ڈی سی پی سمیت کئی سینئر انتظامی اور پولیس افسران بھی مہم کی نگرانی کے لیے پہنچے۔ متاثرہ خاندانوں نے اس کارروائی کے خلاف قانونی جنگ بھی لڑی تھی۔ کئی رہائشیوں نے دہلی ہائی کورٹ اور بعد میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا، لیکن کسی طرح کی کوئی راحت نہیں ملی۔ عدالتوں سے کوئی راحت نہ دیئے جانے کے بعد انتظامیہ نے منصوبہ بندی کے مطابق کارروائی کو انجام دیا۔انہدامی کارروائی کے دوران علاقے میں کشیدہ لیکن کنٹرول کا ماحول رہا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی عوامی مفاد میں اور ٹریفک کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے کی جا رہی ہے۔ دریں اثناء متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے گھر، جن میں وہ برسوں سے رہ رہے ہیں، اجاڑے جارہے ہیں اور انہیں کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہدامی کارروائی فی الحال انتظامی نگرانی میں جاری ہے۔واضح رہے کہ سڑک چوڑی کرنے کی تجویز کے بعد بیچ میں آئے 150 مکان مالکان کو نوٹس بھیجے گئے تھے، جس میں انہیں 30 مئی 2026 تک اپنے گھر خالی کرنے کا کہا گیا تھا۔ اس کے بعد متاثرین نے دہلی ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیا، لیکن کوئی راحت نہیں ملی۔ سپریم کورٹ نے بھی 30 مئی تک سب کو اپنے گھر خالی کرنے کا حکم دیا۔ تاہم کچھ لوگوں کا سامان اب بھی گھروں میں موجود ہے۔ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد 31 مئی کی صبح سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان انہدامی کارروائیاں شروع کردی گئی۔