مردم شماری کا دباؤ! اتر پردیش سمیت کئی ریاستوں میں قبل از وقت اسمبلی انتخابات کی سرگوشیاں، سیاسی پارٹیاں الرٹ

Wait 5 sec.

اتر پردیش اور اگلے سال اسمبلی انتخابات والی ریاستوں میں مقررہ وقت سے پہلے انتخابات ہو سکتے ہیں۔ اس امکان پر سیاسی اور انتظامی حلقوں میں سرگوشیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مردم شماری اوراس سے متعلق انتظامی تیاریوں کے باعث حکومتی مشینری پر بڑھنے والے دباؤ کے پیش نظر مختلف متبادل پر غور کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ ابھی تک اس سلسلے میں کوئی سرکاری فیصلہ یا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ اتر پردیش کے علاوہ پنجاب، اتراکھنڈ، گوا اور منی پور جیسی ریاستوں میں بھی انتخابی پروگرام اور مردم شماری سے متعلق سرگرمیوں کے درمیان تال میل کے سلسلے میں انتظامی سطح پر بات چیت جاری ہے۔مردم شماری کے دوران سرکاری اساتذہ کو ملا 100 کوئنٹل بھوسا جمع کرنے کا ہدف، ٹیچر یونین نے کہا ’ کل گوبر بھی اٹھوائیں گے؟‘خیال کیا جا رہا ہے کہ اگر دونوں عمل ایک ہی وقت میں انجام دیئے جاتے ہیں تو افسران اور ملازمین پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ انتظامی افسران کا کہنا ہے کہ ضلع مجسٹریٹ کی سطح سے لے کر نچلی سطح تک سرکاری ملازمین کی بڑی تعداد الیکشن اور مردم شماری دونوں عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مردم شماری کے دوران ضلع انتظامیہ کو بڑے پیمانے پر وسائل اور افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ الیکشن کے وقت بھی یہی مشینری انتخابی عمل انجام دیتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اسی وجہ سے دونوں پروگراموں کے درمیان ممکنہ ٹکراؤ سے نپٹنے کے لیے انتظامی متبادل پر غور کیا جا رہا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ مردم شماری کے بعد مستقبل میں لوک سبھا اور اسمبلی حلقوں کی حد بندی کا عمل بھی شروع ہو سکتا ہے۔ حالانکہ حد بندی ایک الگ اور طویل عمل ہے، پھر بھی اس سے متعلق ممکنہ تیاریوں کے حوالے سے مختلف طرح کی باتیں گردش کر رہی ہیں۔ انتظامی شعبوں کا خیال ہے کہ مرکزی حکومت اور ریاستوں کے درمیان مستقبل میں انتخابی اور مردم شماری سے متعلق ترتیب کو مربوط کرنے کے سلسلے میں وسیع صلاح و مشورہ ہو سکتا ہے۔مردم شماری 2027: یوپی میں 31 دسمبر 2025 سے 31 مارچ 2027 تک سبھی ریونیو ایڈمنسٹریٹو یونٹس ہوں گی فریزقبل از وقت انتخابات کی سرگوشیوں نے سیاسی پارٹیوں کی سرگرمیاں بھی تیز کر دی ہیں۔ جہاں بی جے پی تنظیمی سطح پر پہلے ہی سرگرم ہے وہیں اپوزیشن پارٹیاں بھی ممکنہ انتخابی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملیوں کو تیز کرنے میں مصروف ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگرچہ ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے تاہم تمام پارٹیاں قبل از انتخابات تیاریوں کے حوالے سے الرٹ نظر آ رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن فی الحال مختلف ریاستوں میں حالات اور انتظامی تقاضوں کا مطالعہ کر رہا ہے۔