250 ڈالر کے نئے نوٹ کا جھگڑا کیا ہے؟

Wait 5 sec.

واشنگٹن (31 مئی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایک نئے 250 ڈالر کے یادگاری نوٹ کے اجرا کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جس پر صدر ٹرمپ کی تصویر شامل کی جا سکتی ہے، تاہم اس تجویز کو عملی شکل دینے کے لیے متعدد قانونی اور قانون سازی کی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔یہ تجویز ریپبلکن قانون سازوں کی جانب سے پیش کردہ ایک بل کے تحت سامنے آئی ہے، جس کا مقصد امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریبات کے موقع پر 250 ڈالر کا خصوصی نوٹ جاری کرنا ہے۔ موجودہ وفاقی قانون کے مطابق کسی بھی زندہ شخص کی تصویر امریکی کرنسی پر شائع نہیں کی جا سکتی، اس لیے اس اقدام کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہوگی۔امریکی محکمہ خزانہ کے ترجمان نے بتایا کہ ادارہ مجوزہ قانون سازی کے تناظر میں ضروری منصوبہ بندی اور جائزہ لے رہا ہے۔ ترجمان نے کہا ’’اگر یہ قانون منظور ہو کر نافذ ہو جاتا ہے تو 250 ڈالر کا یادگاری نوٹ ہمارے عظیم ملک کی 250 ویں سالگرہ کی مناسب یادگار ہوگا۔‘‘یہ بل جنوبی کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن رکن کانگریس جو ولسن نے پیش کیا ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ 250 ڈالر کی مالیت امریکا کی ڈھائی سو سالہ تقریبات کی علامت کے طور پر منتخب کی گئی ہے۔ اس بل کو قانون بننے کے لیے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔اس تجویز کو زندہ شخص کی تصویر کرنسی پر شائع کرنے کی قانونی پابندی کے علاوہ دیگر رکاوٹوں کا بھی سامنا ہے۔ وفاقی قانون یہ بھی طے کرتا ہے کہ کون سی مالیت کے نوٹ جاری کیے جا سکتے ہیں، اور 250 ڈالر کا نوٹ اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔ناقدین نے اس منصوبے پر سوالات اٹھاتے ہوئے انتظامیہ کی ترجیحات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ورجینیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر مارک وارنر، جو سینیٹ بینکنگ کمیٹی کے رکن ہیں، کا کہنا ہے کہ پالیسی سازوں کو نئی یادگاری کرنسی متعارف کرانے کی بجائے عوام کو درپیش بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اخراجات پر توجہ دینی چاہیے۔اس وقت گردش میں موجود سب سے بڑی امریکی کرنسی 100 ڈالر کا نوٹ ہے، جس پر بینجمن فرینکلن کی تصویر موجود ہے۔ 500، 1,000 اور 10,000 ڈالر کے نوٹ 1969 میں بند کر دیے گئے تھے، اگرچہ وہ اب بھی قانونی کرنسی شمار ہوتے ہیں اور زیادہ تر کلیکٹرز کے پاس موجود ہیں۔محکمہ خزانہ نے مجوزہ 250 ڈالر کے نوٹ کے کسی سرکاری ڈیزائن کا اجرا نہیں کیا۔ عام طور پر امریکی کرنسی کے نئے ڈیزائن تیار کرنے میں کئی سال لگتے ہیں اور اس عمل میں فیڈرل ریزرو اور امریکی سیکرٹ سروس سمیت متعدد وفاقی ادارے شامل ہوتے ہیں۔ حکام کے مطابق جعل سازی کے خطرات کم رکھنے کے لیے نئے نوٹوں کے ڈیزائن عام طور پر اجرا سے چند ماہ قبل ہی منظرعام پر لائے جاتے ہیں۔فی الحال یہ واضح نہیں کہ کانگریس اس قانون سازی کو آگے بڑھائے گی یا نہیں، اور آیا امریکا کے یومِ آزادی 4 جولائی کو ہونے والی 250 ویں سالگرہ کی تقریبات سے قبل ایسا کوئی یادگاری نوٹ جاری کیا جا سکے گا یا نہیں۔