مشرقِ وسطیٰ میں کئی مسلم ممالک جرائم کرنے پر سزا کے لیے اسلامی اصول پر عمل کرتے ہیں۔ حالانکہ دنیا کے بیشتر ممالک ’اسلامی سزا‘ کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں اور سخت سزاؤں کو ظلم سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس درمیان کرناٹک ہائی کورٹ نے ایک معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے ’اسلامی سزا‘ کی تعریف کی ہے، اور کہا ہے کہ سختی نہ ہونے سے لوگوں میں اصلاح کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق کرناٹک ہائی کورٹ نے مشرق وسطیٰ کی طرح سخت سزا دینے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ لوگ جمہوری نظام کے تحت ملنے والے حقوق اور آزادی کا تیزی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جسٹس آر نٹراج کا یہ تبصرہ عصمت دری کے ملزم 23 سالہ ایک شخص کی ضمانت عرضی کو خارج کرتے ہوئے سامنے آیا۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ قوانین کے تحت جرائم پیشوں سے سختی کے ساتھ نمٹا نہیں جا رہا ہے، جس سے سزا کا روکنے والا اثر کمزور ہو گیا ہے۔بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے کہا کہ ’’قانون نے اپنی طاقت گنوا دی ہے، کیونکہ ہم جرائم پیشوں سے سختی کے ساتھ نہیں نمٹتے۔ اسی لیے مشرق وسطیٰ کے برعکس جرم کرنا اتنا آسان ہو گیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’اگر آپ ہاتھ یا پیر کاٹ دیں گے، تبھی شاید لوگوں کو قانون ماننا سمجھ آئے گا۔ ہمارے یہاں جمہوریت ہے، اس لیے ہر کوئی اسے ہلکے میں لیتا ہے۔‘‘بہرحال، کرناٹک ہائی کورٹ نے 23 سالہ نوجوان کی ضمانت عرضی پر ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا اور معاملہ کی آئندہ سماعت 8 جون تک ملتوی کر دی۔ ملزم کی طرف سے پیش وکیل اینتیکا منڈل نے دلیل دی کہ ان کا موکل تقریباً 2 ماہ سے عدالتی حراست میں ہے اور کوئی جرم نہیں ہوا ہے۔ منی پال انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں 23 سال کے طالب علم پر اس کی ایک ہم جماعت نے مرضی کے خلاف جنسی استحصال کا الزام عائد کیا ہے۔ شکایت کے مطابق دونوں کچھ وقت تک رشتہ میں تھے، لیکن بعد میں خاتون نے اس کے کیریکٹر پر شبہ ہونے کے بعد اس سے دوری اختیار کر لی۔