امریکی سائنسدانوں کی پراسرار اموات اور گمشدگیاں، وائٹ ہاؤس میں ہلچل

Wait 5 sec.

واشنگٹن : امریکی سائنسدانوں کی پے در پے پراسرار اموات اور گمشدگیوں کے ساتھ ساتھ یو ایف او سازشی نظریات نے وائٹ ہاؤس تک ہلچل مچا دی ہے، ارکانِ کانگریس نے بھی اس معاملے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔امریکا میں خلائی، دفاعی اور جوہری تحقیق سے وابستہ متعدد سائنسدانوں کی پراسرار گمشدگیوں اور اموات نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے یو ایف اوز (اڑن طشتریاں) اور خفیہ سازشوں کے نظریات کو نئی ہوا دے دی، جس کے بعد معاملہ وائٹ ہاؤس اور کانگریس تک جا پہنچا۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک صحافی نے وائٹ ہاؤس بریفنگ میں ان واقعات سے متعلق سوال اٹھایا، جس پر بعد ازاں باضابطہ طور پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتوں میں یہ دعویٰ تیزی سے پھیلا کہ کم از کم 11 امریکی سائنسدانوں کی گمشدگی یا ہلاکتیں آپس میں جڑی ہوسکتی ہیں، جبکہ بعض حلقوں نے اس کے پیچھے دشمن ممالک یا حتیٰ کہ یو ایف اوز (اڑن طشتریاں) کا ہاتھ ہونے کے شبہات بھی ظاہر کیے۔یہ نظریات ابتدائی طور پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سامنے آئے، تاہم بعد ازاں دائیں بازو کے میڈیا، پوڈ کاسٹس اور مختلف آن لائن پروگراموں نے انہیں مزید تقویت دی، جس کے بعد امریکی میڈیا نے بھی اس معاملے کو نمایاں کوریج دینا شروع کردی۔رپورٹس کے مطابق امریکی فضائیہ کے میجر جنرل ولیم (ر)“نیل” میک کاسلینڈ رواں برس 27 فروری کو نیو میکسیکو میں اپنے گھر سے پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئے تھے۔وہ اسپیس وہیکلز اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی سے متعلق تحقیقی ادارے سے وابستہ رہ چکے ہیں، جس کے باعث ان کی گمشدگی نے یو ایف او کمیونٹی میں بھی سوالات کھڑے کردیے۔ ’یو ایف اوز‘ سئے مراد Unidentified Flying Objects ہیں۔ (غیر شناخت شدہ اڑنے والی اشیا)مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تاحال کسی امکان کو رد نہیں کیا گیا، تاہم تحقیقات صرف حقائق کی بنیاد پر آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔اس فہرست میں ناسا جیٹ پروپلشن لیبارٹری سے وابستہ سائنسدان مائیکل ڈیوڈ ہکس، لاپتا ہونے والی سائنسدان مونیکا رضا، ماہر فلکیات کارل گرل مائر، ایم آئی ٹی کے فزسسٹ نونو لوریرو اور دیگر سائنسدانوں کے نام بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔ایک اور نام ایما ایسکرج کا بھی زیر بحث آیا، جو ’’گریویٹی موڈیفکیشن ریسرچ‘‘ پر کام کرنے کا دعویٰ کرتی تھیں۔ان کی 2022 میں خودکشی رپورٹ ہوئی تھی، تاہم ایک سابق برطانوی انٹیلی جنس افسر نے دعویٰ کیا کہ ایسکرج نے اپنی موت سے قبل پیغام دیا تھا کہ اگر ان کی موت کو خودکشی قرار دیا جائے تو اس پر یقین نہ کیا جائے۔امریکی سائنسدانوں کی اموات کے معاملے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی اس حوالے سے سوال کیا گیا، جس پر انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں گے۔بعد ازاں ریپبلکن ارکانِ کانگریس نے ایف بی آئی، ناسا، محکمہ توانائی اور دیگر اداروں سے ممکنہ خطرناک تعلق کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کردیا۔ماہرین کے مطابق اگرچہ ان دعوؤں کے حق میں واضح شواہد موجود نہیں، تاہم سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد اور غلط معلومات کے دور میں ایسی سازشی تھیوریز تیزی سے عوامی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔