کریٹ سومیا 5 سالوں میں 2.20 لاکھ مسلم بچوں کی پیدائش پر فکر مند، ’مسلم ممبئی‘ کا اندیشہ ظاہر کر فڑنویس کو لکھا خط

Wait 5 sec.

بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے ممبئی کی آبادی اور مذہبی بنیاد پر بچوں کی پیدائش کے اعداد و شمار کو لے کر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے ممبئی میں ایک ’آبادیاتی توازن کمیٹی‘ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ سومیا کا کہنا ہے کہ شہر کی بدلتی ہوئی آبادیاتی صورت حال پر نظر رکھنے اور اس سے متعلق مسائل کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ممبئی کی شناخت اور آبادی کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے، اور حالات ایسے ہی رہے تو ’مسلم ممبئی‘ دور نہیں۔"मुस्लिम मुंबई" बनवण्याचे कारस्थान !3 हिंदू मुलांचा जन्माचा समोर 2 मुस्लिम मुलांचा जन्मगेल्या 5 वर्षांत3,36,525 हिंदू बालकांचा जन्म झाला2,20,754 मुस्लिम बालकांचा जन्म झालागेल्या 5 वर्षात मुंबईत 3,36,625 हिंदू मुलांच्या जन्म 2,20,754 मुस्लिम मुलांचा जन्ममुंबईला… pic.twitter.com/bcsuOLwA9O— Kirit Somaiya (@KiritSomaiya) November 6, 2026کریٹ سومیا نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کر گزشتہ 5 سالوں کے دوران ممبئی میں پیدا ہونے والے بچوں کے اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔ ان کے مطابق اس دوران شہر میں 3,36,525 ہندو بچوں کی پیدائش ہوئی، جبکہ مسلم بچوں کی تعداد 2,20,754 رہی۔ کریٹ سومیا نے ان اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا کہ ہر 3 ہندو بچوں کی پیدائش کے مقابلے میں 2 مسلم بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔ انہوں نے اسے ممبئی کی آبادیاتی صورت حال سے جوڑتے ہوئے اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔بی جے پی لیڈر نے اس معاملے پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو خط لکھ کر انھیں ایک طرح سے متنبہ کیا ہے۔ خط میں انہوں نے ممبئی کی آبادی سے متعلق اعداد و شمار کا جائزہ لینے اور آبادیاتی توازن کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ایسی کمیٹی شہر میں مذہبی بنیاد پر آبادی سے متعلق اعداد و شمار کا مطالعہ کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ آبادی میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجوہات کو سمجھنے اور ضروری اقدامات کرنے کے لیے حکومت کو تجاویز بھی دے سکتی ہے۔کریٹ سومیا نے اپنے بیان میں ممبئی کو ’مسلم ممبئی‘ بننے سے بچانے کی بات کہی ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد آبادی اور مذہبی بنیاد پر بچوں کی پیدائش کے اعداد و شمار کو لے کر سیاسی بحث تیز ہونے کا امکان ہے۔ فی الحال اس مطالبے پر مہاراشٹر حکومت کی جانب سے کسی فیصلے کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ کریٹ سومیا مسلم منافرت پر مبنی بیان اکثر دیتے رہے ہیں، اور تازہ معاملہ بھی مسلم منافرت سے جڑا ہوا ہی دکھائی دیتا ہے۔ ممبئی میں گزشتہ 5 سالوں کے دوران 2.20 مسلم بچوں کی پیدائش کے مقابلے 3.36 ہندو بچوں کی پیدائش سے ظاہر ہے کہ مسلمانوں کی آبادی ہندوؤں سے زیادہ نہیں ہو رہی۔ اس کے باوجود کریٹ سومیا کی ’مسلم ممبئی‘ والی سوچ حیرت انگیز ہے۔