51 ارب ڈالر سعودی عرب نے حوثی ملیشیا کے ساتھ کسی بھی خفیہ ڈیل یا مطالبات کی تردید کر دی

Wait 5 sec.

ریاض(6 نومبر 2026): سعودی عرب نے حوثیوں کے 51 ارب ڈالر اور اقتدار کے مطالبے سے متعلق وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کو مسترد کردیا۔سعودی وزارتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے وال اسٹریٹ جنرل کی اس رپورٹ کو "سرے سے مسترد” کر دیا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یمن کی حوثی ملیشیا نے دشمنی ختم کرنے کے بدلے میں مملکت سے 51 ارب ڈالر اور ملک کے حکمران کے طور پر تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں پبلک ڈپلومیسی کے ڈپٹی منسٹر رائد کرملی نے واضح کیا کہ اس رپورٹ کی ’’حقیقت میں کوئی بنیاد نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے ان دعوؤں کو اخبار کے مصنفین یا ان کے مبینہ ذرائع کی گھڑی ہوئی من گھڑت کہانیاں قرار دیا۔رائد کرملی نے حوثی ملیشیا پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حوثیوں نے یمنی حکومت کے خلاف بغاوت کی، یمنی عوام کو بھوک اور افلاس کی طرف دھکیلا، اور ملک کو ایسے تنازعات اور ایجنڈوں میں الجھایا جو اس کے مفاد میں نہیں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس ملیشیا نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی، شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حملے کیے ہیں اور ہمیشہ امن کی کوششوں کو مسترد کیا ہے۔آخر میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یمن میں پہلے ہی ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت موجود ہے۔