پیراگوئے : بینک بحران سے سیاسی بھونچال کیوں آیا ؟

Wait 5 sec.

اسونسیون : پیراگوئے میں ڈیجیٹل بینک یوینو کے بحران نے ملک میں سیاسی طوفان کھڑا کردیا، صدر کے مستعفی ہونے کے بعد اعلیٰ حکام بھی تحقیقات کی زد میں آگئے۔جنوبی امریکی ملک پیراگوئے میں تیزی سے ترقی کرنے والے ڈیجیٹل بینک یوینو کے مالی بحران نے ملکی سیاست میں بھونچال پیدا کردیا ہے۔بینک کے مالیاتی مسائل، سرکاری فنڈز کے استعمال اور حکومتی شخصیات سے مبینہ کاروباری روابط کے معاملے نے اتنی شدت اختیار کرلی کہ صدر سانتیاگو پینا کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑگیا اور لاکھوں صارفین بھی اپنی جمع پونجی سے محروم ہوگئے۔یوینو بینکیوینو کا آغاز 2021 میں ایک چھوٹی مقامی مالیاتی ٹیکنالوجی کمپنی کے طور پر ہوا تھا، تاہم ڈیجیٹل بینکاری کے جدید نظام اور آسان مالیاتی خدمات کی بدولت اس نے غیر معمولی ترقی کی۔کمپنی کا کاروباری ماڈل دنیا کے معروف ڈیجیٹل بینکوں نوبینک، مونزو اور ریولٹ سے مشابہ تھا۔ جون 2026 میں بینک نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے صارفین کی تعداد تقریباً 30 لاکھ ہوچکی ہے جبکہ پیراگوئے کی مجموعی آبادی لگ بھگ 65 لاکھ ہے، اس طرح ملک کی تقریباً نصف آبادی اس کی صارف بن چکی تھی۔بینک کے مطابق وہ سرکاری اداروں اور پنشن سے متعلق محکموں سمیت تقریباً 85 کروڑ ڈالر کے عوامی فنڈز کا انتظام بھی کررہا تھا۔ تاہم حالیہ مہینوں میں اس کے مالی معاملات پر سوالات اٹھنے لگے۔ الزام تھا کہ بینک نے اپنے مرکزی حصص دار گروپو واسکیز (Grupo Vázquez) سے منسلک کمپنیوں کو ضرورت سے زیادہ قرضے فراہم کیے، جس سے بینک کی مالی صورتحال متاثر ہوئی۔پیراگوئے کے مرکزی بینک نے تحقیقات کے بعد یوینو کو کم از کم مالیاتی استحکام کے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اس کا انتظام اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ یہ اقدام فوری طور پر بینک کو ختم کرنے کے بجائے اس کے معاملات سنبھالنے کے لیے مرکزی بینک کا سخت ترین انتظامی قدم تھا۔صدر سانتیاگو پینا کے بینک سے روابطصدر سانتیاگو پینا، جو ماہرِ معاشیات بھی ہیں اور 2023 میں صدر منتخب ہوئے تھے، ماضی میں گروپو واسکیز کے حصص دار رہ چکے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے مارچ 2025 میں اپنے حصص فروخت کردیے تھے۔ یوینو بینک نے بھی واضح کیا ہے کہ صدر کا بینک میں براہِ راست کوئی حصہ یا سرمایہ کاری نہیں تھی۔تاہم اپوزیشن جماعتوں نے صدر پر مفادات کے ٹکراؤ، پنشن فنڈز کے مبینہ غلط استعمال اور معاملے کو ادارہ جاتی سطح پر دبانے کے الزامات عائد کیے، صدر ان الزامات کی تردید کرتے رہے اور ان کا مؤقف تھا کہ ایک انتظامی و مالیاتی معاملے کو سیاسی تنازع بنا دیا گیا ہے۔استغاثہ نے جمعرات کو تصدیق کی کہ بینک کے انہدام سے متعلق تحقیقات میں صدر کا نام بھی شامل ہے، تاہم انہیں تفتیش کے لیے طلب نہیں کیا گیا تھا، دوسری جانب حکام نے یوینو کے آٹھ اعلیٰ عہدیداروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔مرکزی بینک کے سربراہ کا استعفیٰاس بحران میں مرکزی بینک کے سربراہ کارلوس کاروالو کا کردار بھی زیرِ بحث آیا، جو ماضی میں یوینو کے سربراہ رہ چکے تھے۔بینک کے خلاف کارروائی کے بعد انہوں نے منگل کو مرکزی بینک کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، اگرچہ مرکزی بینک نے کسی بھی قسم کے مفادات کے ٹکراؤ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کاروالو نے یوینو سے متعلق تمام فیصلوں میں خود کو الگ رکھا تھا، تاہم ان کے سابقہ تعلقات نے نگرانی کے نظام پر سوالات کھڑے کردیے۔لاکھوں صارفین کی جمع پونجیبینک کے انتظامی کنٹرول کے بعد صارفین کے اکاؤنٹس دوسری مالیاتی اداروں میں منتقل کرنے کا عمل شروع کیا گیا، تاہم اس دوران کئی بینکنگ ایپس کی خدمات بھی متاثر ہوئیں۔یوینو کے صارفین تاحال اپنے پرانے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل نہیں کرسکے، جبکہ متعدد افراد اپنی جمع پونجی کے حصول کے لیے بینک شاخوں کے باہر جمع ہوئے۔ متاثرین میں پنشن وصول کرنے والے بزرگ شہری بھی شامل ہیں۔صدر پینا نے عہدہ چھوڑنے سے قبل متاثرہ کھاتے داروں کو ادائیگیوں کا عمل تیز کرنے کے لیے قانون سازی کی منظوری دی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ صارفین کے ڈپازٹس اور سرکاری فنڈز کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔دوسری جانب یوینو نے 2026 کے ایک بیان میں ترقیاتی مالیاتی اداروں، بین الاقوامی فنڈز اور عالمی کیپٹل مارکیٹس سے تقریباً 51 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت حاصل کرنے کا ذکر کیا تھا، جس میں وال اسٹریٹ پر جے پی مورگن اور بینک آف امریکا کی سربراہی میں جاری کیے گئے 35 کروڑ ڈالر کے بانڈز بھی شامل تھے۔پیراگوئے کے حکام کا مؤقف ہے کہ یہ بحران صرف یوینو بینک تک محدود ہے اور ملک کے مجموعی بینکاری نظام کی کمزوری کی عکاسی نہیں کرتا۔تاہم اس واقعے سے ملک کی معاشی ساکھ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر طویل المدتی اثرات مرتب ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔صارفین کو رقم کی واپسیعلاوہ ازیں پیراگوئے کی تاریخ کے سب سے بڑے بینک بحران کے بعد لوگوں کی مالی حالت انتہائی ابتر ہوگئی تھی تاہم اب صارفین کو رقم کی واپسی کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔بحران کے باعث سے 30 لاکھ سے زائد یوینو بینک صارفین اکاؤنٹس منجمد ہونے سے اپنی رقم سے محروم ہوگئے تھے، یہ تعداد پیراگوئے کی بالغ آبادی کا تقریباً 60 فیصد بنتی ہے۔مرکزی بینک کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بینک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد متاثرہ صارفین کو جمع شدہ رقم کی پیشگی ادائیگیاں کی جارہی ہیں۔پیراگوئے کے صدر نے بینک اسکینڈل کے بعد استعفیٰ دے دیا