ڈھاکہ: انسانی حقوق کی تنظیموں نے بنگلہ دیش میں بہتر اجرت اور مزدور حقوق کے لیے احتجاج کرنے والے گارمنٹس کارکنوں کے خلاف مبینہ تشدد اور گرفتاریوں کی مذمت کی ہے۔ مظاہروں کے دوران کم از کم ایک مزدور کی ہلاکت، 210 سے زیادہ افراد کے زخمی اور 216 افراد کے گرفتار ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تنظیموں نے تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے کہا کہ پولیس نے زیادہ اجرت کا مطالبہ کرنے والے ہزاروں مزدوروں کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی۔ تنظیم کے مطابق، فیکٹری مالکان اور سیاسی جماعتوں سے منسلک افراد کے تشدد، آتش زنی اور توڑ پھوڑ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ایچ آر ڈبلیو نے حکام پر زور دیا کہ پولیس صرف ضرورت کے وقت متناسب طاقت استعمال کرے اور تشدد کے ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرایا جائے۔ ایچ آر ڈبلیو ایچ آر ڈبلیو کے مطابق، توفیق حسین نامی مزدور 3 نومبر کو ڈھاکہ کے اسپتال میں چل بسا۔ اس کے ایک ساتھی نے الزام لگایا کہ توفیق فیکٹری واپس جاتے ہوئے احتجاج روکنے کے لیے مبینہ طور پر بلائے گئے افراد کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس الزام کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔تنظیم نے کہا کہ مزدوروں کے مطالبات پر بات کرنے کے بجائے حکام مظاہروں کو سیاسی مخالفت سے جوڑ رہے ہیں۔ ڈھاکہ پولیس کے مطابق، 3 نومبر کو توڑ پھوڑ کے الزام میں عوامی لیگ کے 33 حامی گرفتار کیے گئے۔ دوسری جانب بی این پی کی یوتھ ونگ کے ارکان پر بھی احتجاجی مزدوروں کو نشانہ بنانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ایچ آر ڈبلیو نے مزدور رہنماؤں کی حراست اور ہزاروں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمات پر تشویش ظاہر کی۔فرانس میں قائم جسٹس میکرز بنگلہ دیش اِن فرانس (جے ایم بی ایف) نے بھی پولیس تشدد، مبینہ من مانی گرفتاریوں اور بی این پی کارکنوں پر حملوں کے الزامات کی مذمت کی۔ بنگلہ دیشی ذرائع ابلاغ اور اپنے ذرائع سے حاصل معلومات کے مطابق، 5 نومبر تک کم از کم ایک مزدور ہلاک، 210 سے زیادہ افراد زخمی اور 216 گرفتار ہوچکے تھے۔ تنظیم کے مطابق، 18 مقدمات میں تقریباً 19,521 افراد نامزد کیے گئے ہیں۔جے ایم بی ایفجے ایم بی ایف کے بانی صدر شاہ نور اسلام نے کہا کہ مزدور اپنے خاندانوں کی کفالت اور باعزت زندگی کے لیے مناسب اجرت مانگتے ہیں؛ انہیں لاٹھی چارج، آنسو گیس اور گرفتاریوں کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے توفیق حسین کی موت کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کیا۔خیال رہے کہ مزدور کم از کم ماہانہ اجرت 12500 ٹکا سے بڑھا کر 30 ہزار ٹکا کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں موجودہ اجرت ناکافی ہے۔ احتجاج کے دوران سوار اور اشولیا میں 200 سے زائد فیکٹریوں نے چھٹی کا اعلان کیا۔