لندن : برطانیہ اور سوئیڈن میں آٹزم کی تشخیص 10 گنا بڑھ گئی، جس کے سبب نوجوان خواتین میں بے چینی اور ڈپریشن کے کیسز میں بھی اضافہ سامنے آیا ہے۔برطانیہ اور سوئیڈن میں گزشتہ 13 برس کے دوران بالغ افراد میں آٹزم کی تشخیص میں تقریباً 10 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ نوجوان خواتین میں اس رجحان میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔نئی تحقیق کے مطابق آٹزم کی تشخیص پانے والے افراد کی بڑی تعداد پہلے ہی بے چینی، ڈپریشن اور توجہ کی کمی و حد سے زیادہ سرگرمی (اے ڈی ایچ ڈی) جیسے ذہنی و نفسیاتی مسائل کا شکار تھی۔تحقیق کے مطابق 2010 سے 2023 کے دوران آٹزم کی تشخیص کے رجحان میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، ماضی میں آٹزم کے ساتھ مرگی اور ذہنی نشوونما میں معذوری جیسے اعصابی مسائل زیادہ دیکھے جاتے تھے، تاہم اب ایسے افراد میں بے چینی، ڈپریشن، اے ڈی ایچ ڈی اور کھانے پینے سے متعلق نفسیاتی عوارض کی تشخیص کا تناسب بڑھ رہا ہے۔اس تحقیق میں برطانیہ اور سوئیڈن کے 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد بالغ افراد کے طبی ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا، جس کے دوران مجموعی طور پر 2 لاکھ 41 ہزار 936 افراد میں آٹزم کی تشخیص سامنے آئی۔نتائج سے ظاہر ہوا کہ آٹزم کی تشخیص میں اضافے کے ساتھ متاثرہ افراد میں پہلے سے موجود ذہنی اور نفسیاتی مسائل کی نوعیت بھی تبدیل ہوئی ہے۔تحقیق میں نوجوان خواتین، خصوصاً 16 سے 20 سال کی عمر کے گروپ میں آٹزم کی تشخیص کے بڑھتے ہوئے رجحان کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔اس عمر کی خواتین میں شدید بے چینی کی شرح 29 فیصد سے بڑھ کر 59 فیصد تک پہنچنے کی نشاندہی کی گئی ہے، جو آٹزم اور دیگر ذہنی صحت کے مسائل کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی ضرورت اجاگر کرتی ہے۔محققین کے مطابق آٹزم کی تشخیص میں اضافے کی وجوہات پر ماہرین کے درمیان مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔بعض ماہرین کا خیال ہے کہ طبی آگاہی میں اضافے، تشخیصی طریقہ کار میں بہتری اور خواتین میں آٹزم کی نسبتاً کم نمایاں علامات کو سمجھنے کی صلاحیت بڑھنے کے باعث اب ایسے افراد کی شناخت ممکن ہورہی ہے جو ماضی میں تشخیص سے محروم رہ جاتے تھے۔اس کے برعکس بعض ماہرین نے ضرورت سے زیادہ تشخیص کے خدشات بھی ظاہر کیے ہیں، ان کے مطابق آٹزم اور دیگر ذہنی و نفسیاتی بیماریوں کی علامات میں مماثلت کے باعث بعض افراد میں غلط تشخیص کا امکان موجود ہے۔تحقیق کے نتائج نے آٹزم کی بڑھتی ہوئی تشخیص کے اسباب، تشخیصی معیار اور ذہنی صحت کے دیگر مسائل کے ساتھ اس کے تعلق پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ماہرین کے مطابق اصل ضرورت یہ ہے کہ تشخیص کے عمل میں درستگی یقینی بنائی جائے تاکہ نہ تو آٹزم سے متاثرہ افراد تشخیص سے محروم رہیں اور نہ ہی دیگر ذہنی مسائل کو غلطی سے آٹزم قرار دیا جائے۔