اڈانی کے نوی ممبئی ہوائی اڈے پر بین الاقوامی پروازوں کی منتقلی، غیر ملکی ایئرلائنز نے کی مخالفت

Wait 5 sec.

ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے سے بین الاقوامی پروازیں نوی ممبئی کے نئے ہوائی اڈے پر منتقل کرنے کے منصوبے کی غیر ملکی ایئرلائنز نے مخالفت شروع کر دی ہے۔ ایئر فرانس اور امارات سمیت کئی بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے اس منصوبے پر شہری ہوا بازی کی وزارت سے اعتراضات درج کرائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوی ممبئی ہوائی اڈے پر بین الاقوامی پروازوں کے لیے ضروری بنیادی سہولتوں، اضافی اخراجات اور موجودہ فلائٹ سلاٹس کے تحفظ سے متعلق کئی سوالات ابھی حل طلب ہیں۔دراصل ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ (ایم آئی اے ایل) نے پرانے ٹرمینل ون کی تعمیر نو کے پیش نظر بین الاقوامی پروازوں کو نوی ممبئی منتقل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ دونوں ہوائی اڈوں کا انتظام اڈانی گروپ کی کمپنیوں کے پاس ہے۔ آپریٹر کا کہنا ہے کہ تقریباً 60 سال پرانے ٹرمینل ون بی کی عمارت میں ساختی خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں اور اس کی مرمت و تعمیر نو ضروری ہے۔ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ممبئی ہوائی اڈے سے کام کرنے والی 50 بین الاقوامی ایئرلائنز میں سے 12 کو موسم گرما 2027 کے لیے پرانے ہوائی اڈے پر سلاٹس نہیں ملے ہیں۔ اس سے 14 بین الاقوامی مقامات کے لیے روزانہ تقریباً 16 پروازیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ابتدائی منصوبے کے تحت ممبئی کی ہفتہ وار 770 بین الاقوامی پروازوں میں سے 265 کو اکتوبر کے آخر سے نوی ممبئی منتقل کیا جانا تھا، لیکن حکومت کی مداخلت کے بعد اس فیصلے کو مارچ 2027 کے آخر تک مؤخر کر دیا گیا۔ بعد ازاں آپریٹر نے ایئرلائنز کو 3 نومبر تک اپنا ٹرانزیشن پلان جمع کرانے کی ہدایت دی۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ اپنی خدمات نوی ممبئی منتقل کریں یا عارضی طور پر بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔ایئرلائنز نے اس عمل کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے موجودہ سلاٹس کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمینل ون کی صلاحیت میں کمی کے فیصلے سے پہلے مناسب مشاورت اور صلاحیت کا شفاف جائزہ ضروری ہے۔ ممبئی میں ایئرپورٹ آپریٹرز کمیٹی نے بھی اس طریقہ کار پر اعتراض کیا ہے۔دوسری جانب اڈانی ایئرپورٹ ہولڈنگز لمیٹڈ کا کہنا ہے کہ ٹرمینل ون بی کے آڈٹ میں زنگ لگنے، کنکریٹ خراب ہونے اور عمارت میں دراڑیں پڑنے جیسی خامیاں سامنے آئی ہیں۔ آئی آئی ٹی بمبئی کی جانچ میں بھی عمارت کی ساخت سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اپریل میں لگنے والی آگ نے بھی تعمیر نو کی ضرورت بڑھا دی ہے۔ منصوبے کے مطابق جنوری 2027 میں کام شروع ہوگا اور پہلے مرحلے میں ٹرمینل ون بی کے شمالی حصے کو منہدم کیا جائے گا۔ تعمیر نو کے بعد ٹرمینل کی سالانہ مسافر گنجائش ڈیڑھ کروڑ سے بڑھ کر دو کروڑ ہونے کی توقع ہے۔اڈانی ایئرپورٹ ہولڈنگز کے سی ای او ارون بنسل کے مطابق تعمیر نو کے دوران تقریباً 50 لاکھ مسافر عارضی طور پر متاثر ہو سکتے ہیں، جو چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے کی سالانہ گنجائش کا تقریباً 9 فیصد ہے۔تاہم، ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ نوی ممبئی ہوائی اڈے پر بین الاقوامی پروازوں کے لیے کیٹرنگ، کارگو گودام، عملے کے قیام اور دیگر ضروری سہولتوں کی دستیابی کا مکمل جائزہ لیا جانا چاہیے۔ بین الاقوامی فضائی نقل و حمل کی تنظیم (آئی اے ٹی اے) نے بھی گراؤنڈ ہینڈلنگ، کارگو، عملے کی رہائش اور زمینی رابطوں کے حوالے سے آزادانہ جائزے کا مطالبہ کیا ہے۔اس تبدیلی کا اثر مسافروں کی جیب پر بھی پڑ سکتا ہے۔ نوی ممبئی سے بین الاقوامی پرواز کے لیے مسافروں سے 1225 روپے یوزر ڈیولپمنٹ فیس وصول کرنے کی تجویز ہے، جبکہ موجودہ ممبئی ہوائی اڈے پر اکانومی کلاس کے مسافروں کے لیے یہ رقم 615 روپے ہے۔ اس طرح نئے ہوائی اڈے سے سفر کرنے والوں کو تقریباً دوگنا فیس ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔اس کے علاوہ دونوں ہوائی اڈوں کے درمیان تقریباً 40 کلومیٹر کا فاصلہ بھی مسافروں کے لیے اضافی پریشانی بن سکتا ہے۔ حکام نے مفت شٹل اور بس خدمات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی ای شیواہی بسیں نوی ممبئی ہوائی اڈے کو دادَر، بوریولی اور پونے سے جوڑ رہی ہیں۔ تاہم، مسافروں کو ایسی مستقل اور وقت کے مطابق ٹرانسپورٹ سہولت درکار ہے جو صبح سویرے اور رات دیر گئے آنے والی پروازوں کے لیے بھی دستیاب ہو۔