سپریم کورٹ کا ترون تیج پال کی سزا پر روک لگانے سے انکار، دیوالی پر جیل سے باہر رہنے کی درخواست بھی مسترد

Wait 5 sec.

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے عصمت دری کے ایک معاملے میں 10 سال قید کی سزا کاٹ رہے صحافی اور تہلکہ میگزین کے سابق مدیر ترون تیج پال کو راحت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے ان کی سزا پر روک لگانے کی درخواست مسترد کرنے کے ساتھ ہی دیوالی کے دوران جیل سے باہر رہنے کی اپیل بھی خارج کر دی۔ تیج پال نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ انہیں دیوالی کے موقع پر کچھ دن جیل سے باہر رہنے کی اجازت دی جائے۔جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پرسنّا بی ورالے پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے تیج پال کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم دیا۔ سماعت کے دوران گوا حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے ان کی درخواست کی مخالفت کی۔ تیج پال اور گوا حکومت کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد بنچ نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں سزا پر روک لگانے کے حق میں نہیں ہے۔ اس طرح عدالت نے تیج پال کو فوری راحت دینے سے انکار کر دیا۔اس معاملے میں 6 اگست کو بامبے ہائی کورٹ نے ترون تیج پال کو عصمت دری کا قصوروار قرار دیتے ہوئے 10 سال کی سخت قید کی سزا سنائی تھی۔ ہائی کورٹ نے اس فیصلے کے ذریعے ماتحت عدالت کے سابقہ فیصلے کو پلٹ دیا تھا، جس میں تہلکہ میگزین کے سابق مدیر کو بری کر دیا گیا تھا۔تیج پال پر الزام تھا کہ انہوں نے 2013 میں گوا میں تہلکہ میگزین کی جانب سے منعقدہ ایک پروگرام کے دوران ایک ہوٹل کی لفٹ میں اپنی ایک جونیئر خاتون ساتھی کے ساتھ عصمت دری کی تھی۔ اس وقت ان کی عمر 62 سال ہے۔ تیج پال نے اپنے خلاف کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے تیج پال نے 20 اگست کو سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ تاہم، سپریم کورٹ نے 25 اگست کو انہیں 10 سال کی سزا بھگتنے کے لیے تین ہفتوں کے اندر خودسپردگی کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے اس سے قبل خودسپردگی سے چھوٹ دینے کی ان کی درخواست بھی مسترد کر دی تھی۔بعد ازاں ترون تیج پال نے 14 ستمبر کو گوا کی ایک عدالت کے سامنے خودسپردگی کر دی تھی۔ وہ اس وقت اپنی سزا کاٹ رہے ہیں۔ دوسری جانب گوا حکومت نے بھی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے، جس میں تیج پال کی سزا کو 10 سال سے بڑھا کر عمر قید کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس معاملے میں انہیں دی گئی سزا میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔