کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی نے امریکی اخبار ’دی گارجین‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ 1992 میں متنازعہ بابری مسجد کے ڈھانچہ کو منہدم ہوتے ہوئے ٹیلی ویژن پر دیکھ کر وہ رو پڑی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ جب انھوں نے ٹیلی ویژن پر بابری ڈھانچے کے انہدام کا منظر دیکھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ انھیں اسی وقت احساس ہوگیا تھا کہ جس سیکولر ملک کی تعمیر کی کوشش مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو اور ان کے ساتھیوں نے کی تھی، اس کے لیے انھیں ایک طویل لڑائی لڑنی ہوگی۔سونیا گاندھی کی خودنوشت ’بیلانگنگ: اے جرنی آف لو‘، محبت کی کہانی سے ہندوستان سے گہری وابستگی تک کا سفر!سونیا گاندھی نے کہا کہ ان کی اپنی پارٹی کی ناکامیوں نے بھی کسی حد تک بی جے پی اور اس کی سخت گیر ہندوتوا سیاست کے عروج میں تعاون کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’میرا خیال ہے ہم کئی معاملات میں ضرورت سے زیادہ لاپروا ہو گئے تھے۔ ہمارا رویہ کسی حد تک ایسا تھا جیسے ہمیں کسی چیز کی پروا ہو ہی نہیں۔‘‘ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کیے جانے کے فیصلہ سے متعلق سونیا نے کہا کہ اس معاملے پر خاندان کے افراد کی رائے منقسم تھی۔ راجیو گاندھی اس قدم کے خلاف تھے اور انھوں نے اپنی والدہ سے اگلے انتخابات تک انتظار کرنے کی اپیل کی تھی، لیکن ان کے چھوٹے بیٹے سنجے گاندھی نے ایمرجنسی نافذ کرنے پر زور دیا تھا۔ ایک خاندانی عشائیہ کے دوران بحث کرتے ہوئے سنجے نے کہا تھا کہ اپوزیشن ان کی والدہ کو سیاسی طور پر تباہ کردے گی اور اسے روکنا ضروری ہے۔سونیا گاندھی کا کہنا ہے کہ اُس وقت سنجے گاندھی کا اپنی والدہ پر زبردست اثر و رسوخ عوامی سطح پر بحث کا ایک بڑا موضوع تھا۔ ان کے مطابق اس صورت حال نے خاندان کے اندر بھی کشیدگی پیدا کردی تھی۔ راجیو گاندھی نے اپنی والدہ سے اس معاملے پر اختلاف کرتے ہوئے انھیں سمجھانے کی کوشش کی، لیکن اندرا گاندھی نے ان کی بات سننے سے انکار کردیا۔ سونیا گاندھی نے اس بارے میں اپنی خودنوشت ’بیلانگنگ‘ میں بھی ذکر کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ اگر سنجے گاندھی کو قابو میں رکھا جاتا تو بعد میں پیش آنے والے بہت سے نقصانات سے بچا جا سکتا تھا۔تاریخ یقیناً ڈاکٹر منموہن سنگھ کو اچھی باتوں کے لیے یاد رکھے گی... سونیا گاندھیبہرحال، سونیا گاندھی نے تسلیم کیا کہ اندرا گاندھی کا ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ ایک غلطی تھی اور ان کا خیال ہے کہ ان کی ساس کو بھی بعد میں اس کا احساس ہوا تھا۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’مجھے ہمیشہ محسوس ہوتا ہے کہ اندرا گاندھی دل سے جمہوریت پسند تھیں۔ مجھے معلوم ہے کہ بہت سے لوگ اس بات پر ہنسیں گے، لیکن میرا ماننا ہے کہ ایمرجنسی کے دوران وہ کبھی بھی خود کو مطمئن محسوس نہیں کرتی تھیں۔ میرے خیال میں اس فیصلے کا بوجھ ان پر پڑ رہا تھا۔‘‘اندرا گاندھی کے قتل کے واقعہ کو یاد کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے بتایا کہ 31 اکتوبر کو وہ گھر پر موجود تھیں، جب انھوں نے پٹاخوں جیسی آواز سنی۔ وہ دوڑتی ہوئی اندرا گاندھی کے دفتر پہنچیں تو انھوں نے اپنی ساس کو خون میں لت پت اور گولیوں سے چھلنی حالت میں زمین پر پڑا دیکھا۔ اندرا گاندھی کے سکھ محافظوں نے آپریشن بلیو اسٹار کے دوران گولڈن ٹیمپل پر فوجی کارروائی کا بدلہ لینے کے لیے ان پر گولیاں چلائی تھیں۔ سونیا گاندھی نے بتایا کہ ’’ہر طرف خون ہی خون تھا اور مجھے احساس ہوا کہ وہ میرے سوالوں کا کوئی جواب نہیں دے رہی ہیں۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ پہلے ہی اس دنیا سے جا چکی ہوں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’مجھے گھر سے اسپتال تک کا سفر آج بھی یاد ہے۔ وہ انتہائی تکلیف دہ تھا۔ سڑک پر ٹریفک زیادہ نہیں تھا، لیکن گاڑی کی رفتار بہت سست محسوس ہو رہی تھی۔ مجھے یہ بھی احساس تھا کہ چونکہ وہ کچھ بول نہیں رہی تھیں، اس لیے سب کچھ ختم ہو چکا ہوگا۔‘‘