امریکا کا ایران کی زمینی راستوں کے ذریعے اسلحہ کی ترسیل روکنے کا اعلان

Wait 5 sec.

واشنگٹن (7 نومبر 2026): بحری ناکہ بندی کے بعد امریکا نے ایران کی زمینی تجارت روکنے کیلیے ٹاسک فورس بنانے کا اعلان کر دیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پر جاری بحری ناکہ بندی کے بعد امریکی فوج نے ایک ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو تہران کی جدید اسلحہ کے نظام اور دیگر مواد کی سرحدوں اور بحیرہ کیسپین کے ذریعے نقل و حرکت کو روکنے کی کوششوں کو مزید مضبوط کرے گی۔یہ بھی پڑھیں: ایران ایٹمی پروگرام سے متعلق بعض اہم امور پر امریکا سے بات چیت پر آمادہامریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ ٹاسک فورس آئرن گیٹ کے نام سے یہ فورس فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں قائم ہوگی اور دیگر امریکی سرکاری اداروں کے ساتھ رابطہ کرے گی، اسلحہ کی نقل و حرکت کے علاوہ یہ اشیا اور غیر قانونی آمدنی کے ذرائع پر بھی توجہ دے گی۔https://t.co/xUcO520Enu— U.S. Central Command (@CENTCOM) November 7, 2026ٹاسک فورس تقریباً 20 سویلین اور فوجی اہلکاروں کے اندرونی عملے پر مشتمل ہوگی۔سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایک بیان میں کہا کہ سینٹ کام کے امریکی بین الادارہ جاتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے سے ایران کی دہشتگردی کی مبینہ مالی معاونت کرنے، اسلحہ کی فیکٹریاں دوبارہ تعمیر کرنے اور اپنی فوج کو دوبارہ لیس کرنے کی صلاحیت مزید محدود ہو جائے گی۔سینٹ کام کے اندازے کے مطابق اس کی بحری ناکہ بندی نے اب تک ایران کو 25 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے خام تیل کی برآمد سے روک دیا ہے۔