لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے گزشتہ دنوں پی ایم مودی کو ملک کے موجودہ ایشوز پر ’اوپن ڈیبیٹ‘ کا چیلنج پیش کیا تھا، حالانکہ پی ایم مودی کی طرف سے اس پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ پی ایم مودی سے راہل گاندھی فائنانشیل سسٹم، ہند-امریکہ معاہدہ، اڈانی کیس، ایپسٹین جیسے معاملوں پر کھلی بحث کرنا چاہتے تھے اور انھیں یہ آزادی دی تھی کہ مباحثہ کے لیے جگہ کا انتخاب وہ خود کریں۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ کا دعویٰ تھا کہ وہ 5 منٹ میں پی ایم مودی کو غدارِ وطن ثابت کر دیں گے۔ اب اس معاملہ میں راجیہ سبھا رکن اور سینئر وکیل کپل سبل نے تجویز پیش کی ہے کہ پارلیمنٹ میں پی ایم مودی اور راہل گاندھی کے درمیان مباحثہ کا انتظام کیا جانا چاہیے۔دراصل کپل سبل نے ہفتہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں تجویز رکھی کہ پی ایم مودی اور راہل گاندھی کو پارلیمنٹ میں اہم ایشوز پر بغیر کسی رخنہ کے سیدھے سوال جواب کا موقع دینا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’وزیر اعظم اپوزیشن لیڈر سے سوال پوچھیں، اور اپوزیشن کے لیڈر وزیر اعظم سے سوال پوچھیں۔ یہ بات چیت تب تک چلنی چاہیے جب تک ضروری ہو۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ دونوں لیڈران کو پارلیمنٹ میں آمنے سامنے بیٹھایا جائے اور اس دوران کسی دیگر رکن کو بولنے یا مداخلت کی اجازت نہ ہو۔