واشنگن : امریکی وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد امریکا کی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ہرمیت ڈھلون نے اپنےعہدے سے استعفیٰ دے دیا۔تفصلات کے مطابق امریکی وسط مدتی انتخابات میں نتائج کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ٹرمپ انتظامیہ سے پہلا استعفیٰ سامنے آگیا۔امریکا کی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور شہری حقوق ڈویژن کی سربراہ ہرمیت ڈھلون نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔وہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابیوں اور ریپبلکن پارٹی کو ملنے والی برتری کے بعد مستعفی ہونے والی ٹرمپ انتظامیہ کی پہلی سینئر عہدیدار بن گئی ہیں۔ہارمیت ڈھلوں گزشتہ سال اس عہدے پر تعینات ہوئی تھیں اور انہوں نے محکمہ انصاف کے سول رائٹس ڈویژن کی پالیسیوں اور ترجیحات میں نمایاں تبدیلیاں کیں۔FOLLOW US ON ARY TUBEان کے دور میں ڈویژن کے متعدد تجربہ کار وکلا نے عہدے چھوڑے، جبکہ معروف امریکی جامعات کے خلاف بھی وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع کی گئیں‘فاکس نیوز ڈیجیٹل’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ چند ہفتے قبل ہی کر لیا تھا، تاہم وائٹ ہاؤس نے ان سے انتخابات ختم ہونے تک عہدے پر برقرار رہنے کی درخواست کی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ نجی شعبے میں واپس جانا چاہتی ہیں اور ان سے استعفیٰ طلب نہیں کیا گیا تھا۔دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے مطالبے کو مکمل طور پر رد کر دیا ہے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا "میں پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ آنے والے چند ماہ اور سال میرے محکمے اور پورے امریکا کے لیے انتہائی اہم ہیں۔”ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکنِ کانگریس تھامس میسی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مواخذے کے لیے کیپٹل ہل میں باضابطہ قرارداد پیش کریں گے۔