نئی دہلی: دیوالی اور چھٹھ سمیت ملک بھر میں تہواروں کے دوران ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں کی بڑھتی ہوئی بھیڑ کو کنٹرول کرنے اور انہیں محفوظ و آسان سفر کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ریلوے نے تقریباً 18 ہزار خصوصی ٹرینیں چلانے کا انتظام کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بڑے اسٹیشنوں پر اضافی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو نے جمعہ کو نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کا دورہ کر کے تہواروں کے دوران مسافروں کی سہولت کے لیے کیے گئے انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ صورت حال پر مسلسل نظر رکھیں اور کسی بھی ہنگامی ضرورت سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔معائنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ویشنو نے کہا کہ درگا پوجا، دیوالی اور چھٹھ سمیت تہواروں کے موسم میں ہر سال ریلوے پر مسافروں کا غیر معمولی دباؤ رہتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی ریلوے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہر سال رہنمائی کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال تہواروں کے دوران ریکارڈ 12 ہزار خصوصی ٹرینیں چلائی گئی تھیں، جب کہ اس سال یہ تعداد بڑھا کر تقریباً 18 ہزار کر دی گئی ہے۔ گزشتہ سال چلائی گئی کئی خصوصی ٹرینوں کو اب باقاعدہ ٹرینوں میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر کیے گئے انتظامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال غیر محفوظ ٹکٹ رکھنے والے مسافروں کے لیے الگ ویٹنگ روم بنایا گیا تھا، جو کافی مفید ثابت ہوا۔ اس مرتبہ ریزرو ٹکٹ رکھنے والے مسافروں کے لیے بھی علیحدہ ویٹنگ روم تیار کیا گیا ہے۔پہلے اسٹیشن میں داخلے کے چھ الگ الگ دروازے ہونے کی وجہ سے مسافروں کو الجھن کا سامنا کرنا پڑتا تھا، لیکن اب ایک مشترکہ داخلہ علاقہ بنایا گیا ہے۔ سامان کی جانچ کی سہولتیں بھی باہر منتقل کر دی گئی ہیں اور ٹکٹ جاری کرنے کے لیے استعمال ہونے والی جگہ کو بڑے ویٹنگ روم میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ریلوے وزیر کے مطابق ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے شکور بستی ڈپو میں تقریباً چھ ٹرین ریک تیار رکھے گئے ہیں، جنہیں ضرورت پڑنے پر فوری طور پر روانہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران مسافروں کی آمد و رفت کے اعداد و شمار کا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تجزیہ کیا گیا ہے۔ کووڈ کے دور کو الگ رکھتے ہوئے اس مطالعے کی بنیاد پر ان اسٹیشنوں کی نشاندہی کی گئی جہاں تہواروں کے دوران سب سے زیادہ بھیڑ ہوتی ہے۔ اسی حساب سے خصوصی ٹرینوں کی تعداد اور ان کے اوقات طے کیے گئے ہیں۔ویشنو نے کہا کہ زیادہ بھیڑ والے دنوں میں شام پانچ بجے کے بعد مسافروں کی تعداد بڑھنے اور پوری رات یہ سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس صورت حال پر نظر رکھنے کے لیے ریلوے بورڈ، شمالی ریلوے، ڈویژنل دفاتر اور اسٹیشنوں پر 24 گھنٹے فعال کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں۔ ممبئی سمیت دیگر مقامات پر بھی چار سطحی نگرانی کا نظام بنایا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) کے جوانوں، خصوصاً خاتون اہلکاروں کو خصوصی طور پر تعینات کیا گیا ہے۔ ویشنو نے تہواروں کے دوران اپنی ذمہ داریاں انجام دینے والے ریلوے ملازمین کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔