تہران : پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکرز میں زور دار دھماکوں کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔آبنائے ہرمز میں تیل بردار بحری جہازوں سے متعلق کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جہاں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کی صبح تین آئل ٹینکرز میں دھماکے ہوئے اور ان میں آگ بھڑک اٹھی۔العربیہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جہاز مبینہ طور پر مقررہ بحری قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے ایک غیر قانونی راستے سے گزر رہے تھے۔پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اپنے بیان میں کہا کہ تینوں ٹینکرز میں صبح سویرے دھماکے ہوئے، جس کے بعد آگ لگ گئی۔ تاہم ایرانی فورسز نے ان جہازوں کے نام، ان کی ملکیت یا ان کا تعلق کن ممالک سے تھا، اس بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔دوسری جانب برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو پیش آنے والے واقعات کی اطلاع دی ہے۔ایجنسی کے مطابق ہفتے کے روز عمان کے ساحلی علاقے خصب کے قریب ایک آئل ٹینکر میں آگ لگ گئی تھی، جس کے نتیجے میں جہاز کے عملے کو بحفاظت وہاں سے نکالنا پڑا۔برطانوی ایجنسی نے مزید بتایا کہ ہفتے ہی کے روز ایک دوسرے ٹینکر کو بھی کسی نامعلوم شے سے نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم اس حملے کی نوعیت اور ذمہ داروں کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ادھر متحدہ عرب امارات کے سرکاری میڈیا نے اتوار کو اطلاع دی کہ خلیج عمان میں آگ لگنے والے ایک بحری جہاز سے 22 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے، حکام کے مطابق تمام افراد کی حالت مستحکم ہے۔تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب، برطانوی میری ٹائم ایجنسی اور اماراتی میڈیا کی جانب سے بیان کیے گئے واقعات ایک ہی سلسلے کا حصہ ہیں یا مختلف جہازوں کو الگ الگ واقعات میں نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح تین ٹینکرز میں آگ لگنے سے متعلق ایرانی دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق بھی سامنے نہیں آئی۔واضح رہے کہ ایران گزشتہ چند ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو آگ لگنے اور انہیں نشانہ بنائے جانے کے متعدد دعوے کرچکا ہے۔جنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لئے بحری مشن تعینات کرنے کا فیصلہ