امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بڑی مندی، سرمایہ کاروں کے ڈھائی ٹریلین ڈالر ڈوب گئے

Wait 5 sec.

واشنگٹن(6 نومبر 2026): امریکی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے ڈھائی ٹریلین ڈالر ڈوب گئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی بازارِ حصص میں اس بڑی گراوٹ کے باعث ٹیک اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کمپنیوں میں بھونچال مچ گیا ہے اور مارکیٹ باضابطہ طور پر ‘کریکشن زون’ میں داخل ہو گئی ہے۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق نیسڈیک انڈیکس میں ساڑھے پانچ فیصد سے زائد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد ٹیک سرمایہ کاروں نے گھبراہٹ میں اپنے شیئرز فروخت کرنا شروع کر دیے ہیں۔ایران جنگ اور مہنگائی کے باوجود امریکی اسٹاک مارکیٹس نے تاریخ کی نئی بلند ترین سطح کو چھو لیااس گراوٹ کی زد میں اینویڈیا، ٹیسلا، گوگل اور میٹا سمیت دنیا کی تمام بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں آ گئی ہیں، جن کے حصص کی قیمتوں میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔اس اچانک مندی کی بنیادی وجہ ٹیکساس میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر پابندی کے خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ٹیکساس کے نومنتخب گورنر نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ریاست میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر روکنے کا اعلان کیا تھا، جس پر اب سرمایہ کاروں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔چونکہ بڑی ٹیک کمپنیوں نے ٹیکساس میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے لیے اربوں ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے، اس لیے اس متوقع پابندی نے پوری مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔