ٹرمپ کے دورے کے بعد چین نے ایران سے پیچھے ہٹن اشروع کردیا، مائیک والٹز کا دعویٰ

Wait 5 sec.

واشنگٹن : اقوامِ متحدہ میں نامزد امریکی مندوب مائیک والٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ کے دورے کے بعد چین نے ایران سے پیچھے ہٹن اشروع کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ میں نامزد امریکی مندوب مائیک والٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہ بیجنگ کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور چین نے ایران کی پشت پناہی سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے۔امریکی نیوز چینل ‘فاکس نیوز’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مائیک والٹز کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے دورہ چین کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ بیجنگ انتظامیہ نے ایران کے جوہری ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کر لیا ہے۔اس کے علاوہ دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان اس بات پر بھی اتفاق ہوا ہے کہ ایران کو عالمی تجارتی گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انٹرویو کے دوران مائیک والٹز نے ایران کے جوہری پروگرام کو ہدف بناتے ہوئے کہا کہ تہران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کے ذخائر رکھنے کا کوئی ٹھوس اور پرامن جواز موجود نہیں ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یورینیم افزودگی کی یہ سطح جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے انتہائی قریب سمجھی جاتی ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ امریکی قومی سلامتی کے لیے بھی ایک سنگین اور بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔امریکی مندوب کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ چین پر سفارتی دباؤ بڑھا کر ایران کو معاشی اور دفاعی طور پر تنہا کرنے کی حکمتِ عملی پر گامزن ہے، تاکہ اسے جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکا جا سکے۔